تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 269
تاریخ احمدیت۔جلد 27 269 سال 1971ء ایک سال قبل ۱۱ مئی ۱۹۷۰ء کو سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث مغربی افریقہ کے تاریخی دورہ کے دوران احمد یہ سیکنڈری سکول بو (Bo) میں تشریف لائے تھے اور اس سکول کو اپنے قدوم میمنت لزوم سے برکت بخش کر اس کی خاک کو ہمدوش ثریا بنا دیا۔حضور نے یہاں جماعتہائے احمد یہ سیرالیون کے صدر پیرا ماؤنٹ چیف کنیوا مانگا (Kenewa Gamanga) کے سپاسنامہ کے جواب میں ایک ولولہ انگیز تقریر فرمائی اسی موقعہ پر سکول کے پرنسپل چوہدری انور حسن صاحب نے اپنے سپاسنامہ میں حضور کے ورود مسعود کی یاد کو تازہ رکھنے کے لئے ہر سال ۱۱ مئی کا دن شایان شان طریقے سے منانے کی درخواست کی تھی جسے حضور نے منظور فرما لیا تھا۔چنانچہ اس سال حضور کی تشریف آوری کی پہلی سالگرہ نہایت جوش و خروش سے منائی گئی۔سکول کے آڈیٹوریم میں مولا نا محمد صدیق صاحب شاہد امیر جماعت ہائے احمدیہ سیرالیون کی زیر صدارت وسیع پیمانے پر ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں سیرالیون کے جملہ احمد یہ سکولوں کے پرنسپل صاحبان بھی شامل ہوئے۔اسی طرح ڈاکٹرمحمد اسلم جہانگیری صاحب بھی شامل ہوئے جو سیرالیون میں لیپ فاروڈ پروگرام کے تحت پہنچنے والے پہلے ڈاکٹر تھے۔چوہدری انور حسن صاحب نے اپنی استقبالیہ تقریر میں اس تقریب کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ جماعت احمدیہ کے تعلیمی ادارے اس لئے سرگرم عمل ہیں کہ بنی نوع انسان کو مثالی مسلم شہریوں کے سانچے میں ڈھال کر ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنے اور اپنے فرائض منصبی کو احسن رنگ میں ادا کرنے کے قابل بنایا جائے۔روح کی تسکین اور ذہن کی جلا کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے قلع قمع اور جسمانی صحت کے لئے اب حضرت امام جماعت احمدیہ نے طبی مراکز کے قیام کی طرف خاص توجہ مبذول فرمائی ہے اور اس کا پہلا شمر ڈاکٹرمحمد اسلم جہانگیری صاحب ہیں۔ازاں بعد طلباء کا تقریری مقابلہ ہوا۔منصفی کے فرائض محمد نذیر احمد صاحب پرنسپل احمد یہ سکول فری ٹاؤن الحاج مقبول احمد صاحب ذبیح انچارج بواجے بومشن اور الحاج محمد کمانڈا بونگے جنرل سیکرٹری نے ادا کئے۔مقابلہ میں سیکنڈری سکول بو (Bo) کے طالب علم موسیٰ با بوکو اول انعام کا مستحق قرار دیا گیا اور کتاب تفسیر القرآن انگریزی بطور انعام دی گئی۔تقریری مقابلہ کے بعد الحاج علی روجرز، پاسعید و بنگورا، پاالفاشریف، الحاج ماہنا سا قوے اور الحاج ایم کے بونگے کی مختلف اہم موضوعات پر تقاریر ہوئیں اور پھر حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی اس معرکۃ الآراء تقریر کا ریکارڈ سنایا گیا جو حضور نے ا مئی ۱۹۷۰ء کو اس آڈیٹوریم کے باہر ہزار ہا احباب کے عظیم الشان اجتماع میں ارشاد فرمائی تھی۔