تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 265 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 265

تاریخ احمدیت۔جلد 27 265 سال 1971ء الدین مظہر کو رالی کو ظہرانہ پر مدعو کیا۔پروفیسر کو رالی صاحب البانیہ کے رہنے والے تھے اور اشتراکیت سے قبل اعلیٰ افراد میں شمار ہوتے تھے۔آپ کو نعمت احمدیت میسر آگئی اور اب آپ البانوی بولنے والے یوگوسلاوین تک احمدیت کی آواز پہنچانے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو رہے تھے مگر ڈاکٹر محمد عزیز الدین صاحب احمدیت سے وابستہ نہیں ہوئے تھے اس لئے حضرت چوہدری صاحب نے تقریباً دو گھنٹہ تک انہیں احمدیت کا پیغام پہنچایا۔اسی روز آپ نے فرائی بورگ (Fribourg) یو نیورسٹی میں بھی تقریر فرمائی جس میں کارڈینلز کے علاوہ دیگر عمائدین نے بھی شرکت کی۔اجلاس کی پورے دو صفحہ کی رپورٹ کی تمہید میں تحریر تھا کہ فاضل مقرر کی شخصیت سے یہ توقع تھی کہ خطاب میں قانونی امور بیان کئے جائیں گے مگر آپ نے اخلاقی پہلو کی وضاحت فرمائی۔حضرت چوہدری صاحب بلا شبہ بین الاقوامی قانون کے ماہر تھے لیکن رپورٹر کو غالباً اس کا پہلی بار تجربہ ہوا کہ آپ کی دلی وابستگی قرآن کریم سے ہے اور آپ کی گفتگو اور تقریر کا حقیقی نکتہ مرکزی مذہب و اخلاق رہے ہیں۔حضرت چوہدری صاحب تین روز تک دعوت الی اللہ کے جہاد میں دن رات مصروف رہنے کے بعد ۲۶ مئی کو واپس ہالینڈ تشریف لے گئے۔اس ماہ کی آخری تقریب ۳۰ مئی کو منعقد ہوئی جس میں ۸۰ کے قریب البانوی بولنے والے یوگوسلاوین شامل ہوئے۔پروفیسر نجم الدین صاحب نے حاضرین کو پر حکمت انداز میں احمدیت کی دعوت دی۔مشن نے سال کے آخر میں یوگوسلاوین باشندوں تک پیغام حق پہنچانے کی کوششیں تیز تر کر دیں اور اس سلسلہ میں ۱۸ ستمبر سے ۲۵ ستمبر تک ہفتہ تبلیغ بھی منایا۔ہفتہ کو کامیاب بنانے کے لئے سید کمال یوسف صاحب اور شعیب موسیٰ صاحب سویڈن سے تشریف لائے اور جماعت احمد یہ سوئٹزرلینڈ کا مقدور بھر ہاتھ بٹایا جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل وکرم سے چالیس یوگوسلاوین باشندوں کو قبول احمدیت کی سعادت نصیب ہوئی۔79 امسال سوئٹزرلینڈ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کل ۶۷ /افراد نے سلسلہ احمدیہ میں شمولیت کا شرف حاصل کیا۔ان میں سے ایک دوست سوئٹزرلینڈ کے ہیں اور باقی یوگوسلاویہ کے۔80 سیرالیون ۲۹ جنوری ۱۹۷۱ء بروز جمعہ فری ٹاؤن سے قریباً ۳۰ میل دور ایک گاؤں ماٹے ہوئے