تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 264
تاریخ احمدیت۔جلد 27 264 سال 1971ء سولوتھرن (Solothurn) کی کاؤنٹی میں تشریف لے گئے جہاں آپ کے ایک یوگوسلاوین دوست نے بہت سے مسلمان بھائیوں کو مدعو کر رکھا تھا جن میں زیادہ ترک تھے۔جناب باجوہ صاحب کی تقریر کا ترکی ترجمہ ایک دوست نے کیا۔تقریر کے بعد سوال و جواب ہوئے۔ایک ترکی عالم نے حضرت مسیح علیہ السلام کے رفع جسمانی کی خوب وکالت کی مگر بالآخر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کیا ہوا۔آپ نے انہیں مسجد محمود میں آنے کی دعوت دی اور ترجمان دوست کو ان کی سوئس بیگم کے لئے جرمن ترجمہ قرآن کا تحفہ پیش کیا۔ماہ مئی کا اہم ترین واقعہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی زیورک میں تشریف آوری اور اہم تقاریب میں شمولیت ہے۔آپ ۲۳ مئی کو قبل دو پہر ائیر پورٹ پر رونق افروز ہوئے۔چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ، روسی احمدی علاء الدین مصطفی (مع بیگم ) ، شاہ دل یوسف آف ملیشیا، آسٹرین احمدی خاتون اور زیورک کے مخلص احمدیوں نے آپ کا استقبال کیا۔تین بجے سہ پہر آپ کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں حضرت چوہدری صاحب نے معلومات افروز تقریر فرمائی۔آپ نے مثالوں اور مسیحی عمائدین اور مغربی پارلیمانی قوانین کے حوالوں سے ثابت فرمایا کہ آج معاشرہ تیزی سے انحطاط کی طرف جا رہا ہے اور چونکہ پارلیمنٹ اور گر جا دونوں کا انحصار عوام کے ووٹوں پر ہے اس لئے وہ ان کے خلاف آواز بلند کرنے سے ڈرتے ہیں اور مغرب بلکہ ساری دنیا کوصرف اسلام ہی اخلاقی بربادی سے بچا سکتا ہے۔آپ کا یہ خطاب قریباً دو گھنٹہ تک جاری رہا لیکن آپ کے حسنِ خطابت کا کمال یہ تھا کہ حاضرین کو نہ صرف طوالت کا کوئی احساس نہ ہوا بلکہ بعض نے کہا کہ جی چاہتا تھا کہ یہ ختم نہ ہو۔شیخ ناصر احمد صاحب نے جرمن زبان میں وقفہ وقفہ سے اس کا نہایت خوبی کے ساتھ ترجمہ پیش کیا۔چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کے صدارتی ریمارکس کے ساتھ یہ مجلس برخواست ہوئی۔ڈاکٹر حافظ محمد الحق صاحب خلیل اور ان کی سوئس بیگم نے حضرت چوہدری صاحب کے اعزاز میں ایک ریستوران میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔گو یہ مجلس مختلف تھی مگر بڑی پرلطف رہی۔حضرت چوہدری صاحب مختلف مسائل پر گفتگو سے محظوظ فرماتے رہے۔مجلس میں زیورک یونیورسٹی کے بین الاقوامی قانون کے دو پروفیسر بھی تھے جنہوں نے خوب استفادہ کیا۔۲۴ مئی کی شام کو آپ اپنے ایک میزبان کے ہمراہ کار پر برن (Bern) تشریف لے گئے۔۲۵ مئی کو چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے ڈاکٹر محمد عزیز الدین صاحب اور ان کے ماموں پروفیسر نجم