تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 256
تاریخ احمدیت۔جلد 27 256 سال 1971ء مسلمانوں اور غیر مسلموں نے بھی اس پر جماعت کو مبارکباددی اور خوشی کا اظہار کیا۔یہ غیر معمولی بات تھی کیونکہ اب تک حکومت کی طرف سے کسی کی جائیداد واپس نہیں کی گئی تھی۔اس جگہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت نے اس درخواست کے جواب میں یہ بھی لکھا کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ان عمارتوں کا کرایہ محض دینی اغراض کے لئے استعمال ہوتا ہے اس لئے یہ عمارتیں جماعت کو واپس کی جاتی ہیں۔گویا نہ صرف یہ کہ جماعت احمدیہ کے نقصان کی تلافی ہو گئی بلکہ ارباب حکومت پر احمد یوں کی بے لوث خدمات بھی واضح ہو گئیں۔72 جاپان میجر عبدالحمید صاحب انچارج احمد یہ مشن جاپان نے وسط ۱۹۷۱ء میں ” میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“ کے زیر عنوان ایک دیدہ زیب پمفلٹ جاپانی زبان میں چھپوا یا اور ملک بھر میں وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت کی۔اس ضمن میں میجر صاحب کے قلم سے الفضل ۲ مارچ ۱۹۷۱ء صفحہ ۴ پر حسب ذیل نوٹ شائع ہوا:۔میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“ کے عنوان سے قیمتی اور اعلیٰ کاغذ پر جاپانی زبان میں ۱۲ ہزار کی تعداد میں ایک دیدہ زیب پمفلٹ شائع کیا گیا ہے۔دو ہزار کالجوں، یو نیورسٹیوں، پارکوں، گاؤں اور گھروں میں تقسیم کئے جاچکے ہیں۔اکثر جاپانی اس پمفلٹ کو شروع سے لے کر آخر تک پڑھتے ہیں پڑھنے کے بعد تہ کر کے جیب یا بیگ میں ڈال لیتے ہیں۔بعض شکریہ کے طور پر سر جھکاتے ہیں۔بعض نے کہا ” بہت اچھا پمفلٹ ہے۔بعض پڑھ کر سوالات بھی کرتے ہیں۔بعض جاپانیوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ کی یہاں کوئی عبادت گاہ ہے۔میں انہیں کہتا ہوں کہ ابھی تو ہماری ابتدا ہے اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو عبادت گاہ بھی بن جائے گی۔البتہ آپ میرے مکان پر تشریف لاویں میں آپ کو مزید معلومات بہم پہنچاؤں گا۔یہ ایک خوشکن بات ہے کہ دو ہزار پمفلٹ میں نے تقسیم کئے ایک بھی کسی نے زمین پر نہیں پھینکا۔حالانکہ دوسرے پمفلٹ ایک ہاتھ سے لیتے ہیں دوسرے ہاتھ سے پھینک دیتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس پمفلٹ کے پہلے صفحہ پر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شبیہ مبارک ہے اور اس کے آخری صفحہ پر حضرت خلیفۃ المسیح الاول ، حضرت خلیفہ امسیح الثانی اور حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی شبیہ مبارک چھپی ہوئی ہے۔