تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 255
تاریخ احمدیت۔جلد 27 255 سال 1971ء اگلے روز ۸ /اگست کو مورو گورو میں ریجن کا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔صدارت کے فرائض مولانا محمد منور صاحب نے انجام دیئے اور آپ کے علاوہ چوہدری افتخار احمد صاحب ایاز ، مولوی رشید احمد صاحب سرور ، مصطفی سفیدی پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ کلوسا اور مولا نا عبدالباسط صاحب شاہد نے خطاب کیا۔71 وسط ۱۹۷۱ ء میں تنزانیہ پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا جس کے مطابق صدر مملکت عیدی امین کو یہ اختیار حاصل ہو گیا کہ وہ ایک لاکھ شلنگ یا اس سے زیادہ مالیت کی کوئی بھی عمارت قومی ملکیت میں لے سکتے ہیں۔اس قانون کے مطابق حکومت نے ایک ماہ میں دو ہزار سے زیادہ بڑی بڑی عمارتیں اپنی تحویل میں لے لیں نیز مورو گورو اور ٹبو را میں جماعت احمدیہ کی جائیداد بھی اس قانون کی زد میں آگئی۔ان عمارتوں کا کرایہ جماعتی آمد کے محدود ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ تھا اس جائیداد پر سرکاری قبضہ کی خبر سن کر افریقن احمد یوں میں غم والم کی زبردست لہر دوڑ گئی اور وہ خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں میں لگ گئے۔کئی مخلصین نے روزے بھی رکھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں مولا نا محمد منور صاحب کی طرف سے صورت حال کی اطلاع دی گئی اور دعا کی عاجزانہ درخواست بھی کی گئی۔حضور نے خصوصی دعا فرمائی کہ جماعت کو اس نئے قانون سے کوئی گزند نہ پہنچے۔بے بس احمدیوں کا اصل سہارا اور امیدوں کا مرکز تو خدا تعالیٰ ہی ہے وہ اُسی پر توکل کرتے اور اسی کی جناب میں اپنی مشکلات کو پیش کرتے ہیں لیکن ظاہری اسباب کو کام میں لاتے ہوئے مولا نا محمد منور صاحب نے صدر مملکت، متعلقہ وزیر اور کئی دوسرے افسروں کو جماعت کے خاص دینی کام کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ان عمارتوں کو واگزار کرنے کی درخواست کی۔بعض مقامی جماعتوں کی طرف سے بھی ایسی درخواستیں ارباب حکومت کو بھجوائی گئیں۔ملکی حالات اور عام رجحان کو دیکھتے ہوئے بظاہر بالکل امید نہ تھی کہ یہ درخواستیں منظور ہو جائیں گی بلکہ بعض دوستوں کا خیال تھا کہ ان سے فائدہ کی بجائے الٹا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے کہ کہیں باقی ماندہ جائیداد بھی جماعت سے لے لی جائے۔اس عام تاثر ہلکی حالات، سیاسی رحجان کے بالکل بر عکس محض خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت سے احمدیوں کے ایمانوں میں اضافہ و مضبوطی کی خاطر یہ نشان ظاہر ہوا کہ چند ہی دنوں میں حکومت کی طرف سے ان عمارتوں کو واگزار کرنے کی اطلاع آگئی۔الحمد للہ۔ساری جماعت کے لئے یہ ایک غیر معمولی خوشی کی خبر تھی ایک احمدی بہن نے یہ خبر سنتے ہی کہا کہ آج تو ہمارے لئے عید کا دن ہے“۔دوسرے