تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 152
تاریخ احمدیت۔جلد 27 152 سال 1971ء آپ نے ابتدائی دینی تعلیم حضرت خلیفہ اول سے حاصل کی۔جنگ عظیم اوّل میں فوج میں بھرتی ہو گئے اور فوجی خدمات کے سلسلہ میں رنگون، برما، بصرہ اور بغداد وغیرہ میں رہنے کا موقعہ ملا۔جہاں جہاں تشریف لے گئے احمدی احباب سے خصوصی رابطہ رکھا۔کئی جماعتوں کو منظم کیا اور تبلیغ حق کا سلسلہ جاری رکھا اور بسا اوقات اپنے افسران کی ناراضگی مول لی۔آپ خلافت ثانیہ کے ابتدائی دور میں ہی قادیان ہجرت کر کے آگئے تھے۔قیام پاکستان کے بعد قریباً ساڑھے تین سال تک اپنے وطن موضع تر گڑی میں فروکش رہے اور ۳۱ مئی ۱۹۵۱ء کو مستقل طور پر ربوہ منتقل ہو گئے۔یہاں آ کر آپ چند ماہ تک سکول میں استاد کے فرائض انجام دیتے رہے بعد ازاں ملازمت چھوڑ کر جماعتی کاموں کے لئے وقف ہو گئے اور احمدی بچوں کو قرآن مجید پڑھانے یا چندوں کی وصولی میں مصروف ہو گئے۔بچوں کی تربیت کا آپ کو اس قدر خیال تھا کہ آپ ہمیشہ اس بات کی نگرانی فرماتے کہ نماز کے وقت کوئی بچہ سڑک پر کھیلتا ہوا نظر نہ آئے۔خط بہت عمدہ تھا۔فارغ اوقات میں الفضل اور دوسری کتابوں اور رسالوں کی جلد میں بنانا آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔بڑھاپے کے باوجود آپ کے عزم، ہمت اور استقلال میں کوئی فرق نہ آیا۔آپ مستجاب الدعوات اور صاحب رو یا بزرگ تھے۔۴۲-۱۹۴۱ء میں آپ کو ڈبل نمونیہ ہو گیا اور بیماری تشویشناک صورت اختیار کر گئی۔آپ کی اہلیہ سیدہ امتہ الحفیظ صاحبہ نے دعا کی اور صدقہ دیا انہیں رویا میں بتایا گیا کہ آپ تیس سال مزید زندہ رہیں گے۔چنانچہ ایسا ہی عمل میں آیا۔27 آپ بہت نیک ، عابد اور متواضع طبیعت کے مالک تھے اور مخلوق خدا کی خدمت کا خاص شوق اور جذبہ رکھتے تھے اور تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج کے مجاہدین میں سے تھے۔28 اولاد: آپ نے یکے بعد دیگرے چار شادیاں کیں۔زوجه اول: فاطمہ بیگم صاحبہ بنت حضرت منشی میراں بخش صاحب آف گوجرانوالہ۔ان سے آپ کے پانچ بچے ہوئے جو سب کے سب وفات پاگئے۔زوجہ ثانی: طاہرہ بیگم صاحبہ بنت حضرت میاں نظام الدین صاحب جہلمی ان سے ایک بیٹا تو بچپن میں فوت ہو گیا۔دوسرے بیٹے مرزا طاہر احمد صاحب ۶۱ سال کی عمر میں گوجرانوالہ میں فوت ہوئے۔زوجہ ثالث: عنایت بیگم صاحبہ جو کہ محمدی بیگم صاحبہ کے خاوند مرزا سلطان محمد صاحب کی عزیزہ