تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 153
تاریخ احمدیت۔جلد 27 153 سال 1971ء تھیں۔ان سے کوئی اولا د نہیں تھی۔زوجہ رابع : امتہ الحفیظ صاحبہ بنت حضرت مولوی غلام محمد صاحب افغان۔ان سے آپ کے چار بچے ہوئے۔دو چھوٹی عمر میں وفات پاگئے۔جبکہ ایک بیٹے مرزا ظفر احمد صاحب ۶۸ سال کی عمر میں ۲۰۱۲ء میں ربوہ میں وفات پاگئے۔دوسرے بیٹے مرزا نصیر احمد صاحب جامعہ احمدیہ یو۔کے میں بطور استاد خدمت سلسلہ کی توفیق پارہے ہیں۔29 حضرت لعل بی بی صاحبہ ولادت: ۱۸۸۹ ء تحریری بیعت : ۱۹۰۵ ء وفات: اا مئی ۱۹۷۱ ء 30 آپ حضرت محمد خان صاحب آف افغانستان کی اہلیہ محترمہ تھیں۔آپ نے ۱۹۰۵ء میں علاقہ خوست ملک افغانستان سے ایک خط کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شمولیت کی سعادت حاصل کی۔پابند صوم وصلوٰۃ اور موصیہ تھیں۔۲ جنوری ۱۹۴۴ء کو آپ نے قادیان سے وصیت کی۔۱۹۴۷ء میں ہجرت کر کے پشاور آگئی تھیں۔وہیں آپ کی وفات ہوئی۔بہشتی مقبرہ ربوہ کے قطعہ ۹الف میں مدفون ہیں۔آپ کے بیٹے محترم حبیب احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ آپ نے وفات سے چند یوم قبل خواب دیکھا کہ میرے والد صاحب مرحوم ایک باغ کے باہر کھڑے ہیں اور ان کو کچھ کہہ رہے ہیں کہ میرے باغ میں آ جاؤ۔یہاں پر تم کو سب کچھ ملے گا۔اس خواب سے ہم نے یہ نتیجہ نکالا کہ اب شاید والدہ صاحبہ کے یہ آخری ایام ہیں۔ان کے لئے تابوت پہلے سے تیار کیا گیا۔بیماری کے ایام میں وہ حضرت سید صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کابل کے چشم دیدہ حالات شہادت اکثر بیان کرتی رہتی تھیں۔جب وفات سے چند یوم قبل میں نے ان سے کہا کہ آپ کو تابوت میں دفن کریں گے تو بڑی خوش ہوئیں۔اور جب میں نے یہ کہا کہ آپ کی وصیت کے کاغذات مجھے مل گئے ہیں جو آپ قادیان سے ہجرت کے وقت ساتھ لائی تھیں تو بے انتہاء خوش ہو ئیں اور چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا۔میں نے عرض کیا کہ آپ کے تابوت کو ربوہ مقبرہ بہشتی تک پہنچانے کا ذمہ میرے محترم دوست ڈاکٹر منظور احمد امیر جماعت احمدیہ بازید خیل ضلع پشاور نے لیا ہے تو ان کے لئے اور ان کے بال بچوں کے لئے بڑی دعائیں کیں۔میرے والد صاحب مرحوم بھی موصی تھے۔اولاد: آپ نے دولڑ کے اور تین لڑکیاں یادگار چھوڑ ہیں۔31