تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 151 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 151

تاریخ احمدیت۔جلد 27 151 سال 1971ء جب میں ۱۹۰۵ء میں ہائی سکول میں داخل ہوا۔گھر سے خرچ دیر سے آیا۔میاں نجم الدین صاحب مرحوم نے کھانا بند کر دیا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں خرچ کے نہ آنے کی اور لنگر سے روٹی بند ہونے کی درخواست پیش کی تو حضرت صاحب نے ایک ماہ کی اجازت دے دی۔پھر زلزلہ اور طاعون پڑی تو سکول باغ میں گھلا۔حضور بھی تشریف لے گئے۔دو چور باغ میں آ گھسے۔ایک چور بھاگ گیا۔دوسرا پکڑا گیا۔تو حضور نے فرمایا کہ چور کو مارنا نہیں پکڑ لو۔چنانچہ پٹھانوں نے پکڑ کر رسہ سے باندھ دیا۔پھر قاضی امیر حسین صاحب کا لڑ کا شاہ محمد باغ میں فوت ہو گیا۔اس کے جنازہ کے ساتھ ساتھ عاجز، محمد عارف صاحب، برکت علی صاحب، قاضی صاحب اور ان کا ایک رشتہ دار تھا۔قاضی صاحب نے حضرت صاحب سے شکایت کی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو باغ میں جمع کر کے ہمدردی اور حسن سلوک کا وعظ کر کے میر صاحب کے غم کو غلط کیا۔موتا موتی لگ رہی ہے۔یہ اشتہار شائع ہوا ( تو ) میں نے پر تھی چند آریہ، دھرت رام، او ناتھ (جو) میرے ساتھ پڑھتے تھے، ان کو مطالعہ کے لئے دیا۔سیالکوٹ کا لیکچر سرائے میں سنا جس میں کرشن ہونے کا دعویٰ کیا۔پھر لاہور کا لیکچر سنا۔جب مولوی عبد الکریم صاحب نے لیکچر ختم کیا تو کسی انگریز نے درخواست کی کہ حضور بھی اپنی زبان مبارک سے تبر کا کچھ باتیں سنا دیں۔جب حضرت اقدس اُٹھے تو مخالفوں نے شور ڈال دیا۔یہ شور بہت دیر تک ہوتا رہا۔ڈپٹی کمشنر کی ٹوپی بھی گر کر خراب ہو گئی۔پولیس نے بھی بہتیر از ور مارا۔خلقت خاموش نہ ہوسکی۔پھر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اُٹھے اور قرآن کریم پڑھنا شروع کیا۔مولوی صاحب کی آواز کا پہنچنا تھا کہ لوگ بالکل خاموش ہو گئے اور بیٹھ گئے۔بعد ازاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کچھ باتیں سنائیں میں نے اس لیکچر کوخود سنا۔جمعہ کی فجر کی نماز حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھائی۔حضرت صاحب بھی شامل تھے۔فجر کی پہلی رکعت میں سورۃ مریم کا کچھ حصہ پڑھا۔دوسری میں سورت دہر پڑھی۔جس وقت يَتِيما و اسیر پڑھا تو مقتدیوں کی چھینیں نکل گئیں۔زار زار رونے لگے۔میں دوسری صف میں حضرت صاحب کے پیچھے مسجد میں اور حضرت صاحب مولوی صاحب کے ہمراہ حجرے میں کھڑے تھے۔یہ ،، واقعہ ۱۹۰۵ ء کا ہے۔26