تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 149 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 149

تاریخ احمدیت۔جلد 27 149 سال 1971ء قیام سندھ کے دوران آپ کو زیادہ نمایاں طور پر خدمت دین کے مواقع ملے۔سندھ پراونشل انجمن احمدیہ کے قیام سے ہی آپ اس میں شامل رہے۔ایک عرصہ تک سیکرٹری تعلیم و تربیت اور پھر سیکرٹری تبلیغ کے طور پر کام کیا۔پراونشل نائب امیر بھی رہے۔ڈویژنل امارت قائم ہوئی تو ایک عرصہ تک حیدر آباد ڈویژن کے امیر رہے۔ڈویژنل قاضی کے طور پر بھی کام کیا۔تبلیغ احمدیت اور خدمت دین کا شوق اس قدر تھا کہ مجھے فرمایا کہ دنیوی تعلیم مکمل کر کے اگر تم اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے وقف کر دو تو میں اپنے سارے حقوق تمہیں معاف کر دوں گا۔ان کی اس خواہش کی تکمیل میں خاکسار کو قریباً ربع صدی تک مختلف ممالک یورپ میں خدمت دین کے مواقع ملے۔جن میں انگلستان، سوئٹزرلینڈ ، جرمنی اور آسٹریا بھی شامل ہیں۔محمود آباد میں قیام کے دوران حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی تحریک پر سال میں ایک مہینہ اعلیٰ حکام کو تبلیغ کرنے کی غرض سے وقف کرتے تھے۔اس دوران میں اپنی پریکٹس بند کر دیا کرتے تھے۔گوان کی ڈاکٹری پریکٹس تھی لیکن دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ ان کی ڈسپنسری گو یا دار التبلیغ ہوتی تھی۔غیر احمدی اور غیر مسلم مریض جب شہر میں آتے تو ” قادیانی ڈاکٹر کی طرف رجوع کرتے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں بہت شفار بھی تھی۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مریض کو نہ صرف دوا دیتے بلکہ اس کے لئے دعا بھی فرماتے اور خاص مواقع پر ہمیں بھی مریض کی صحت کے لئے دعا کی تحریک فرماتے۔علاج روپیہ کی غرض سے نہ کرتے بلکہ بسا اوقات مفت علاج کرتے۔اخلاق و شمائل : آپ نہایت ذکی اور تیز فہم شخصیت تھے۔احمدیت کے شیدائی تھے اور خلافت کے پروانے۔۱۹۲۶ ء سے آپ کی وصیت تھی۔جو ۱/۷ کی تھی۔آپ کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔مہمان نوازی اور اکرام ضیف گویا فطرت کا حصہ بنا ہوا تھا۔اپنی اولا د اور اولاد در اولاد میں نیکی اور خدمت دین کا جذبہ دیکھنے کی بہت خواہش رکھتے۔اور اس غرض کے لئے ہمیشہ دعا ئیں بھی کرتے۔جلسہ سالانہ اور مجلس مشاورت میں شمولیت ہر حالت میں کرتے۔گوزندگی کے آخری دو سالوں میں صحت نے اجازت نہ دی۔۱۹۶۹ء میں تو لاہور تک گئے لیکن وہاں صحت خراب ہو گئی اور جلسہ میں شمولیت نہ کر سکے۔خاکسار نے حضرت صاحب کی تقاریر ٹیپ ریکارڈ کر کے انہیں سنائیں۔آپ بہت دعا گو تھے اور دعاؤں میں بالخصوص اپنی سب اولا دکو شامل کرتے۔آپ نے اپنے پیچھے پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑیں اور اولاد در اولاد کی مجموعی تعداد