تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 148 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 148

تاریخ احمدیت۔جلد 27 148 سال 1971ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔زمانہ تعلیم میں تبلیغ احمدیت کا جوش اس قدر تھا کہ سکول و کالج کے غیر مسلم اساتذہ ان کی مخالفت کرتے۔جس کا اثر ان کی تعلیم پر بھی پڑا۔ڈاکٹری کی تعلیم امرتسر اور لاہور میں پائی اور پھر شیخو پورہ کے شہر میں پریکٹس شروع کی۔کچھ عرصہ کے بعد آپ اپنے آبائی گاؤں و ڈالہ بانگر میں واپس آگئے اور وہاں کام شروع کیا۔اباجان جماعت کے ایک مشہور گروہ کے فرد تھے۔جن کا تعلق حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے بہت قربت کا تھا۔اس گروہ کے بعض بزرگ اراکین کے نام یہ ہیں۔محترم ملک غلام فرید صاحب - محترم شیخ بشیر احمد صاحب۔محترم نوابزادہ میاں عبداللہ خاں صاحب۔محترم صوفی محمد ابراہیم صاحب۔محترم صوفی غلام محمد صاحب۔محترم مرزا عبدالحق صاحب۔شیخ محمد احد مظہر صاحب۔محترم چوہدری عصمت اللہ صاحب۔محترم ملک کرم الہی صاحب۔یہ ان بزرگان کا گروہ ہے جن کا تعلق احمد یہ ہاسٹل لا ہور سے اوائل زمانہ سے تھا۔مختصر حالات زندگی: ان کی شادی ماموں محترم حضرت شیخ عبدالحق صاحب کی چھوٹی بہن ، ہماری والدہ محترمہ ہاجرہ بیگم صاحبہ کے ساتھ غالباً ۱۹۱۸ء میں ہوئی۔وڈالہ بانگر سے ۳۲-۱۹۳۱ء میں علاقہ بار کی طرف رجوع کیا۔اور مختلف مقامات جن میں لائلپور کا شہر بھی شامل ہے، میں پریکٹس کے سلسلہ میں قیام کے بعد غالباً ۱۹۳۳ء میں محترم نوابزادہ میاں عبداللہ خاں صاحب کی خواہش اور تحریک پر محمود آباد ضلع نوابشاہ سندھ ان کی اراضیات پر چلے گئے اور کئی سال تک وہاں پر رہے۔اس علاقہ میں ان کے علاج کی شہرت بہت پھیل گئی اور مریض دور دور کے علاقوں سے علاج کروانے کی غرض سے آتے۔چونکہ اس علاقہ میں سانپ کثرت سے پائے جاتے تھے اس لئے آپ بالخصوص سانپ کے زہر کے علاج کے لئے بھی بہت مشہور ہو گئے۔محمود آباد ضلع نوابشاہ کی زمین کا تبادلہ تھر پارکر کے علاقہ میں ایک زمین کے ساتھ ہو گیا۔جسے حضرت نواب محمد عبداللہ خاں صاحب نے حضرت اماں جان کے نام کی مناسبت سے نصرت آباد کا نام دیا۔ابا جان بھی اس علاقہ میں منتقل ہو گئے۔چند سال نصرت آباد میں قیام کے بعد آپ کنری تشریف لے گئے۔یہ تقسیم ملک سے پہلے کی بات ہے۔کنری میں قیام کم و بیش بیس سال تک رہا۔جس کے بعد آپ کراچی چلے گئے۔سلسلہ کی خدمات گوشروع سے ہی اور ہر علاقے میں جہاں قیام کا موقع ملا سلسلہ کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے۔ملکانہ میں شدھی کی تحریک کے دوران بھی ایک عرصہ تک وہاں کام کیا۔لیکن