تاریخ احمدیت (جلد 27)

by Other Authors

Page 91 of 364

تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 91

تاریخ احمدیت۔جلد 27 91 سال 1971ء ہیں۔اس کے علاوہ اب محلہ وار کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں جو انفرادی طور پرزور وشور سے قومی دفاعی فنڈ جمع کرنے اور پاکستان کے جیالے فوجیوں کے لئے تحائف فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔اس کام میں لجنہ اماءاللہ کی ممبرات بھی حصہ لے رہی ہیں جو گھر گھر جا کر دفاعی فنڈ اور تحائف جمع کر رہی ہیں۔ملکی دفاع اور استحکام کی یہ جملہ خدمات نظارت امور عامہ صدر انجمن احمد یہ پاکستان کی نگرانی میں سرانجام پاتی ہیں۔جو ان دنوں چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے۔اسے لوکل انجمن احمد یہ، خدام الاحمدیہ، انصار اللہ ، احمدی مستورات کی تنظیم لجنہ اماءاللہ اور تمام مقامی تعلیمی اداروں کا گہرا اشتراک اور تعاون حاصل ہے۔محترم چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب ناظر امور عامہ اور محترم چوہدری محمد صدیق صاحب ایم اے صدر عمومی لوکل انجمن احمدیہ نے ایک ملاقات کے دوران ہمیں بتایا کہ اس سلسلہ میں افسران ضلع جھنگ کی طرف سے جاری کردہ تمام ہدایات کی پوری پوری تعمیل کی جارہی ہے۔مختلف دفاعی خدمات کے لئے مطلوبہ تعداد میں فوراً رضا کار مہیا کئے جاتے ہیں جو رات دن ربوہ اور اس کے گردونواح میں میلوں کے علاقہ میں ڈیوٹی پر متعین ہیں۔سرکاری تنصیبات مثلاً ٹیلیفون ایکسچینج، پوسٹ آفس، ریلوے سٹیشن، ریلوے ٹریک، سوئی گیس اور سڑک کے پلوں کی حفاظت کے لئے خاص طور پر چوبیس گھنٹے پہرے کا انتظام ہے۔نوجوانوں کو مجلس خدام الاحمدیہ کے زیراہتمام اور مستورات کو لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے انتظام کے تحت شہری دفاع اور فرسٹ ایڈ کی تربیت دی جارہی ہے۔ہوائی حملوں سے بچنے کے لئے ٹاؤن کمیٹی ربوہ نے ابتدائی طبی امداد اور آگ بجھانے کا سامان فراہم کرنے کے علاوہ سائرن کا بھی انتظام کر رکھا ہے۔ہوائی حملوں سے بچنے کی تدابیر پمفلٹوں کی صورت میں شائع کر کے گھر گھر تقسیم کر دی گئی ہیں۔جگہ جگہ حفاظتی خندقوں کا انتظام ہے۔رات کو بلیک آؤٹ کی پابندی کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔مکرم صدر صاحب عمومی نے بتایا کہ ہر محلہ میں ایک ایک دفاعی سینٹر قائم کر دیا گیا ہے جہاں پر آگ بجھانے کا سامان موجود ہے اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی زیر ہدایت دس ابتدائی طبی مراکز مختلف مقامات پر قائم ہیں۔ہر مرکز میں طبی امداد کا سامان اور ایک ڈاکٹر یا کمپونڈ رموجود ہے۔ربوہ کے جملہ محلہ جات میں پہرے کا انتظام بھی موجود ہے جو ۲۴ گھنٹے رہتا ہے۔ان تمام دنیوی تدابیر کے ساتھ ساتھ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی تحریک اور ارشاد کے مطابق