تاریخ احمدیت (جلد 27) — Page 92
تاریخ احمدیت۔جلد 27 92 سال 1971ء اہل ربوہ اجتماعی اور انفرادی رنگ میں شب وروز خصوصی دعاؤں میں بھی مصروف ہیں چنانچہ محلہ جات کی مساجد میں پاکستان کی حفاظت و سالمیت کے لئے دردمندانہ اجتماعی دعائیں کی جارہی ہیں۔بہت سے احباب التزام کے ساتھ نماز تہجد ادا کرتے ہیں اور قبولیت دعا کے اس خصوصی وقت سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کی کامیابی کے لئے دعاؤں میں مصروف ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمائے۔دشمن کے ناپاک ارادوں کو خائب و خاسر کرے اور پاکستان کے لئے اپنی غیر معمولی تائید و نصرت کے نشان ظاہر فرمائے۔آمین 94 سقوط ڈھاکہ مشرقی پاکستان میں حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے اور ہندوستان کے حملے نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔فوج کمک پہنچانے کے تمام راستے بھی مسدود ہو چکے تھے۔ان حالات میں ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کو لیفٹینٹ جنرل مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر زون بی اور کمانڈ رایسٹرن کمانڈ (پاکستان) امیر محمد عبد اللہ خان نیازی نے ایک دستاویز پر دستخط کر کے لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے زیر فرمان ہتھیار ڈال دیے جس کے باعث ۹۳۰۰۰ پاکستانی قیدی بنالئے گئے جن میں بچے ، عورتیں ، عام شہری اور فوجی شامل تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی ملک وقوم کو نصائح حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ۱۷ دسمبر ۱۹۷۱ء کومشرقی پاکستان کی جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے ملک وقوم کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:۔جنگ کے دوران بعض محاذوں پر پیچھے بھی ہٹنا پڑتا ہے لوگ گھر بھی جاتے ہیں۔علیحدہ بھی ہو جاتے ہیں اور فوجیں پوری طرح احاطے اور نرغے میں بھی آجاتی ہیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اڑھائی تین سال تک محصور بھی رہے اور بعض دفعه وقتی طور پر بالکل اکیلے بھی رہ گئے اور اکیلے سے یہی مراد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند ساتھی رہ گئے تھے اور پھر وہ وقت بھی گزر گیا۔بعض جگہ غیر کی نظر میں بظاہر بڑا نقصان اٹھا یا اور دشمن کی نظر میں ایک قسم کی وقتی طور پر پسپائی ہی سمجھی گئی مگر اس وقت ہمارا محاذ زمانہ پر پھیلا ہوا تھا اور اس وقت ہمارا پاکستان کا محاذ