تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 88 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 88

تاریخ احمدیت۔جلد 26 اہلیت نہیں رکھتیں۔88 سال 1970ء حضور انور نے فرمایا کہ گیمبیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ اشارہ ہوا کہ اب وقت ہے کہ علاوہ ایک دوسری سکیم کے جو مغربی افریقہ میں براڈ کاسٹنگ سٹیشن لگانے کی ہے کم از کم ایک لاکھ پونڈ ان ملکوں پر خرچ کر دینا چاہیے تا کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کو یہی موجودہ نسل پالے۔جب ہم واپس لندن آئے چند دن لندن ٹھہرے۔پھر میں سپین گیا۔سپین سے پھر واپس لندن آیا اور لندن میں چند دن ٹھہرا۔پہلے میں نے خطبہ میں اپنے پیارے بھائیوں کو یہ بتایا کہ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ منشاء ظاہر کیا ہے کہ جماعت احمدیہ مغربی افریقہ میں مالی قربانیوں کے میدان میں کم سے کم ایک لاکھ پونڈ خرچ کرنے کا انتظام کرے اور میں اپنے بھائیوں سے یہ خواہش رکھتا ہوں کہ انگلستان کے احمدیوں میں سے دو سو احمدی ایسے آگے بڑھیں جو فی کس دو سو پونڈ اس مد میں دیں جس کا نام میں نے ” نصرت جہاں ریز روفنڈ رکھا ہے اور اس کی امانت وہاں کھول دی گئی اور دوسو آدمی ایسے ہونے چاہئیں جو ایک سو پونڈ فی کس دیں اور باقی جو دے سکیں وہ دیں۔لنڈن میں میں نے اپنے خطبہ میں کہا کہ مجھے یہ فکر نہیں کہ یہ روپیہ کیسے آئے گا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ یہ آئے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہ خرچ ہو اور خرچ تو تبھی ہو گا جب خدا تعالیٰ روپیہ کا انتظام کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اسی کی عطا ہے، گھر سے تو کچھ نہ لائے۔جو میرے اور آپ کے پاس ہے وہ ہمارا اپنا کب ہے وہ اس نے دیا ہے اس لئے ہمارے پاس ہے۔جس چیز کی مجھے فکر ہے اور آپ کو بھی فکر ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ محض قربانی خدا کے حضور پیش کر دینا ثمر آور نہیں ہوا کرتا جب تک وہ قربانی اللہ کے حضور قبول نہ ہو جائے۔اور بہت سی قربانیاں کسی اندرونی خباثت کی وجہ سے رد کر دی جاتی ہیں۔پس دعا کرو اور میں بھی یہ دعا کرتا ہوں کہ اے ہمارے رب! تیرا مال تیرے حضور ہم نے پیش کیا۔تجھ پر ہمارا کوئی احسان نہیں۔تیرا ہم پر احسان ہے کہ تُو ایک عظیم بدلے کا ہم سے وعدہ کرتا ہے۔ایسا نہ ہو کہ ہماری کسی اندرونی بیماری یا کمزوری یا غفلت یا تکبر وغیرہ جو ہیں ان کی وجہ سے ہماری یہ پیشکش قبول نہ ہو اور رڈ کر دی جائے۔اے ہمارے رب ! ہماری اس حقیر پیشکش کو قبول کر اور اپنے وعدوں کے مطابق اپنے فضلوں اور اپنی رضا کا اور اپنے پیار کا ہم کو وارث بنا۔-