تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 87 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 87

تاریخ احمدیت۔جلد 26 87 سال 1970ء اپنے امراء جماعت مکرم چوہدری اسد اللہ خان صاحب اور مکرم میاں بشیر احمد صاحب کی قیادت میں لا ہور اور جھنگ سے کراچی پہنچ کر حضور کو اپنی اپنی جماعتوں کی طرف سے خوش آمدید کہا۔احمدیہ ہال کراچی میں بصیرت افروز خطاب سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے اسی روز احمد یہ ہال کراچی میں سفر مغربی افریقہ کے حالات پر بصیرت افروز خطاب کیا۔جس میں اس تاریخی سفر کے متعدد روح پرور واقعات اور رب جلیل کی قادرانہ تجلیات کے غیر معمولی نشانات پر ولولہ انگیز انداز میں روشنی ڈالی۔نیز سرزمین بلال میں نئے سکول اور نئے طبی مراکز کھولنے کے لئے نصرت جہاں ریزروفنڈ“ کے قیام کا بھی ذکر کیا۔چنانچہ حضور نے فرمایا کہ آج میں اپنے ربّ کریم کے فضلوں کا منادی بن کر آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت اور جلال اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے جو جلوے مجھے اور میرے ساتھیوں کو مغربی افریقہ میں دکھائے ان کا بیان الفاظ میں ممکن نہیں ہے۔جب ہم وہاں پہنچے تو تصور میں بھی نہیں تھا کہ کس قسم کے وہ پیارے انسان ہیں اور اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے عظیم روحانی فرزند کی محبت کس رنگ میں ان کے دلوں اور سینوں میں موجزن ہے۔وہاں جا کر پہلا تاثر اور مشاہدہ یہ تھا کہ ان کی محبت جنون کا رنگ لئے ہے۔وہ مجھے دیکھتے تھے اور دیکھتے ہی رہ جاتے تھے۔زبان پر الفاظ نہیں آتے تھے۔ساری محبت سمٹ کر ان کی آنکھوں میں سما جاتی تھی۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عظیم روحانی فرزند کا چونکہ نائب آج تمہارے درمیان ہے اس لئے تمہاری خوشی جائز اور تم حقدار ہو اس بات کے کہ تم جس قدر چاہو آج خوش ہو اور میں بھی خوش ہوں۔میں اس لئے خوش ہوں کہ آج سے قریباً اسی سال قبل ایک گمنام گاؤں میں اللہ کے حکم اور اس کے جلال اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے قیام کے لئے ایک آواز بلند کی گئی تھی۔وہ آواز اپنے ابتدائی دور میں یکہ و تنہا آواز تھی اور جب اس ایک آواز کو دنیا نے سنا تو دنیا کی ساری طاقتیں اس کو خاموش کرنے کے لئے جمع ہو گئیں مگر دنیا کی ساری طاقت اس اکیلی آواز کو خاموش نہیں کرسکی۔چونکہ فنا کے مقام پر وہ شخص کھڑا تھا اور اس کی آواز اللہ کی آواز اور اس کی آواز محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز تھی اور دنیا کی سب طاقتیں جمع ہو کر بھی اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کو خاموش کرنے کی