تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 89 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 89

تاریخ احمدیت۔جلد 26 89 سال 1970ء پاکستان کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو سکیم میرے ذہن میں ڈالی ہے وہ یہ ہے کہ میں پاکستان کے احمدیوں سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ ان میں سے دوسو ایسے مخلصین نکلیں گے جو کم از کم پانچ ہزار روپیہ فی کس نصرت جہاں ریز روفنڈ کے لئے پیش کریں گے اور اس میں سے دو ہزار کی رقم ایک دو ماہ کے اندر اندر وہ داخل کرا دیں گے خزانہ کی مد میں اور باقی تین ہزار روپیہ اگر چاہیں تو تین قسطوں میں اور اگر چاہیں تو دوسرے اور تیسرے سال یعنی تین سال کے اندر اندر وہ جمع کر دیں گے۔اس کے علاوہ دو سوایسے مخلصین چاہئیں جو دو ہزار روپیہ دیں جن میں سے وہ ایک ہزار روپیہ دوماہ کے اندراندر داخل کر دیں اور بقیہ ایک ہزار تین سال کے اندر مناسب قسطوں میں ادا کر دیں۔یہ چودہ لاکھ روپے کی رقم بن جاتی ہے۔میں افریقہ کے ان ممالک سے جو فوری وعدہ کر کے آیا ہوں وہ قریباً ۲۵-۳۰ ہسپتال کھولنے کا ہے جس کو ہم میڈیکل سنٹر یا ہیلتھ سنٹر کہتے ہیں اور قریب ستر استی ہائی سکول ان ممالک میں بنانے ہیں۔لائبیریا میں پریذیڈنٹ ٹب میں نے سو ایکٹر زمین دینے کا وعدہ کیا ہے وہاں دو دفعہ وہ اپنے محکموں کو میری اطلاع کے مطابق کہہ چکے ہیں کہ جلدی ان کے لئے انتظام کیا جائے۔وہاں تو سوا یکر میں سکول اور میڈیکل سنٹر وغیرہ بن جائیں گے۔گیمبیا والوں کو میں نے کہا تھا کہ سپیشلسٹس سنٹر باتھرسٹ کے علاوہ چار نئے طبی مراکز بھی انشاء اللہ کھول دوں گا۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی توفیق دے اور یہ کہ آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں۔انشاء اللہ وہ تعاون کریں گے۔پس وہ اس قسم کے لوگ ہیں۔اگر آج ہم جائیں اور صداقت ان کے سامنے رکھیں۔وہ صداقت قبول کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن صداقت ان کے سامنے رکھنا اور یہ کوشش کرنا کہ وہ اس نور سے منور ہوں یہ کام ان کا نہیں اور نہ وہ کر سکتے ہیں یہ ہمارا کام ہے ہمیں کرنا چاہیے۔اس کے لئے جتنا پیسہ خرچ ہو وہ ہمیں مہیا کرنا چاہیے۔جتنے آدمیوں کی ضرورت ہو وہ ہمیں مہیا کرنے چاہئیں۔پس بہت صاف ستھرے لوگ ہیں لیکن وہ پیاس جو ہے ان کے دل میں وہ سوائے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی اور بجھا نہیں سکتا اور ہم آپ کے غلام بلکہ غلاموں کے بھی غلام ہیں یہ فرض خدا تعالیٰ نے ہمیں سونپا ہے کہ ہم ان کو پیار دیں اور ان کی پیاس کو بجھائیں۔عیسائی اور بد مذہب اس بات کا اظہار کرتے تھے۔وہاں میرے پاس سینکڑوں میلوں سے بڑے بڑے وجاہت والے اور پیسے والے افریقن بھی آئے ہیں کہ دعا کریں۔دعا ان کو کہیں نہیں ملتی۔دعا بھی پیاس کا نتیجہ ہے ان کو