تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 81
تاریخ احمدیت۔جلد 26 غرناطہ کو روانگی 81 سال 1970ء اگلے دن صبح غرناطہ کے لئے روانگی تھی چنانچہ حضور نے فیصلہ فرمایا کہ ہوٹل سے تیار ہو کر نکلا جائے اور راستہ میں مسجد اور ”القصر “ نامی عمارت کو دوبارہ دیکھا جائے۔القصر مسلمان گورنر قرطبہ کا محل ہوا کرتا تھا۔اس کے اندر خوبصورت فوارے، باغات اور سایہ دار درخت اور روشیں وغیرہ بالکل وہی ہیں جو مسلمانوں نے لگائی تھیں۔پھول اور درخت تبدیل ہو جاتے ہیں لیکن طرز وہی ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ پھول بھی وہی لگائے جائیں جو مسلمانوں نے آب و ہوا اور خاصیت زمین کا تجزیہ کر کے شروع میں لگائے تھے۔بعد دو پہر غرناطہ کے لئے روانہ ہوئے سڑک اچھی ہے لیکن سایہ دار درختوں کی کمی کی وجہ سے دو پہر کو تمازت آفتاب نا قابل برداشت ہو جاتی ہے۔غرناطہ نسبتاً پہاڑیوں کے دامن میں ہے۔غرناطہ کا سفر اس لحاظ سے خوشگوار رہا کہ سارا راستہ زرخیز پہاڑیوں پر مشتمل ہے۔زیتون کے باغات کی کثرت ہے۔انگور کے باغ بھی جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔سڑک نشیب و فراز اور پہاڑی پیچ وخم کی وجہ سے بعض جگہ خطرناک ہو جاتی ہیں۔اس حصہ میں ایک نمایاں چیز یہ نظر آتی ہے کہ جگہ جگہ گاؤں کے ناموں کے بورڈ نظر آتے ہیں۔ہر گاؤں Al سے شروع ہوتا ہے مثلاً Al Kaza, Al Kala وغیرہ۔یہ لفظ Al عربی ال ہی ہے۔دوسرا نمایاں فرق یہ نظر آیا کہ سپین کے دوسرے علاقوں کے لوگوں کے مقابلہ میں یہ لوگ دراز قد صحت مند اور ان کے بال اور آنکھیں کالی ہیں۔یہ بھی درحقیقت عرب خون کی آمیزش کی وجہ سے ہے۔شام کو غرناطہ پہنچے۔حضور کا قیام یہاں قصر الحمراء کے ایک حصہ یعنی غرناطہ پیلس ہوٹل میں تھا۔یہ ہوٹل اونچی پہاڑی پر واقع ہونے کی وجہ سے غرناطہ کا نہایت دلکش منظر پیش کرتا ہے۔یہ شہر اسلامی تہذیب و تمدن کا ایک نادر خوبصورت نمونہ ہوا کرتا تھا۔علماء اور شعراء کی کثرت نے تمام شہر کو ایک ادبی مرغزار بنا دیا تھا۔خوبصورت عمارات مساجد اور حمام ہزاروں کی تعداد میں تھے۔آخری مسلمان تاجدار ابوعبداللہ کو غرناطہ سے ہی دیس نکالا ملا تھا۔غرناطہ کا دل الحمراء کا محل ہے۔اس محل کی ایک خصوصیت بہ ہے کہ اس میں جگہ جگہ لاَ غَالِبَ إِلَّا اللہ خوبصورت طرز تعمیر میں کندہ کیا گیا ہے۔جہاں بھی نظر پڑتی ب لا غَالِبَ إِلَّا الله ہی نظر آتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ جب الحمراء کی تکمیل ہوگئی تو امیر عبدالرحمن اس کو دیکھنے چلے۔جب وہ دروازہ پر پہنچے تو چند منٹ کے سکوت کے بعد یک دم واپس مڑ کر اپنے محل کو چلے