تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 80 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 80

تاریخ احمدیت۔جلد 26 80 سال 1970ء ہے وہاں کچھ نہ تھا۔یہ جگہ کوڑا کرکٹ اور غلاظت سے بھری ہوئی تھی لیکن عمر خطاب کے مبارک قدم پڑنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس جگہ کو اتنی عزت دی کہ مسجد اقصیٰ کی مقدس مسجد عین اس جگہ تعمیر ہوئی یقیناً آج کا واقعہ بھی کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔حضور مسجد کے اندر تشریف لے گئے۔ایک پروفیسر صاحب (جو قرطبہ کے ایک کالج میں پڑھاتے ہیں ) حضور کے منور چہرہ سے اتنے متاثر ہوئے کہ بڑے ادب سے آکر مصافحہ کرنے کے بعد حضور کو از خود مسجد دکھانے کے لئے اپنی خدمات پیش کر دیں۔حضور اس (پروفیسر ) کی معیت میں مسجد کے اندر تشریف لے گئے محراب پر آج بھی (با وجود مرور زمانہ کے ) قرآنی آیات آب زر میں منقش ہیں۔آیت الکرسی تو آسانی سے پڑھی جاسکتی ہے۔محراب کے ارد گر دلو ہے کا جنگلہ لگایا گیا ہے اور کسی کو محراب کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے لیکن مسجد کی حفاظت پر مامور ایک شخص نے بغیر کسی درخواست کے خود ہی حضور کی خدمت میں درخواست کی کہ حضور جنگلہ کے اندر محراب میں تشریف لے چلیں اور آہنی جنگلہ کا دروازہ کھول دیا۔قافلہ کے تمام افراد حضور کی معیت میں محراب کے اندر داخل ہوئے تو سب پر رقت طاری تھی۔حضور نے محراب میں کھڑے ہو کر دعا فرمائی۔اس تاریخی موقع کی تصاویر بھی لی گئیں۔مسجد کے ایک حصہ کو چرچ میں تبدیل کیا گیا ہے۔لیکن ایسے بھدے طریق سے جیسے کسی حسین چہرے پر کوئی بد نما خال ہو۔ایک عجیب روحانی نکتہ حضور نے بیان کیا۔فرمایا: د آخر کیا وجہ تھی کہ عیسائیوں نے پوری مسجد کو کلیساء میں تبدیل نہیں کیا اگر وہ چاہتے تو ایسا کرنے میں ان کے لئے کوئی روک نہیں تھی۔“ حضور نے فرمایا اس کی وجہ در حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ عیسائیوں کو اس بات کا خدشہ تھا۔اگر اتنی بڑی مسجد کو چرچ میں تبدیل کر دیا گیا تو اس میں عبادت کے لئے اتنے لوگ کہاں سے آئیں گے۔یہ گویا خود چرچ کا اپنے ماننے والوں پر عدم اعتماد کا اظہار تھا۔آخر مسلمانوں نے اس مسجد کو اس لئے وسیع کیا تھا کہ انہیں یہ احساس تھا کہ یہ مسجد نمازیوں سے بھر جایا کرے گی، مسجد میں بیک وقت ۳۰،۰۰۰ نمازیوں کی جگہ ہے۔یہ مسجد تمام کی تمام مستقف ہے اور غالباً دنیا بھر میں سب سے بڑی مسقف مسجد یہی ہے۔