تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 76
تاریخ احمدیت۔جلد 26 76 سال 1970ء کردہ غلام طارق ابن زیاد کو سپین پر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔طارق ۷۱۱ یعنی ۹۲ ہجری کے جولائی میں ساحل سپین پر اترا اور ایک خونریز جنگ کے بعد دشمن کو شکست فاش دینے میں کامیاب ہوا۔بادشاہ لذریق ایسا لا پتہ ہوا کہ آج تک پتہ نہ چل سکا کہ اس کو زمین کھا گئی یا سمندر میں غرق ہوا۔ی تھی ابتداء ہسپانیہ میں اسلام کے داخل ہونے کی۔مسلمانوں نے نہ صرف ہسپانیہ کو بلکہ پورے یورپ کو قر آنی علوم کے انوار سے منور کر دیا تھا۔وہ سرزمین جو چٹیل اور ریتلے میدانوں کا ایک وسیع خطہ تھی اور جہاں زیتون کے سوا کوئی پھل دار درخت نہ تھا۔جہاں جہالت پس ماندگی اور درندگی کا دور دورہ تھا اور جہاں کے عوام کو اپنے حقوق کا علم و احساس تک نہ تھا۔وہ سرزمین مسلمانوں نے چند صدیوں کے اندر اندر علوم وفنون ، سائنس و ٹیکنالوجی اور شعر و ادب کے خزانوں سے بھر دی۔سپین کی زرخیزی اسلامی دور حکومت میں تمام یورپ سے بڑھ کر تھی جو نتیجہ تھی مسلمان انجینئر ز کے جاری کردہ اعلی نظام آبپاشی کا۔غلہ کی افراط اور اقتصادی استحکام کی وجہ سے سارا یورپ ان کا محتاج تھا۔سپین میں مسلمانوں کا زوال لیکن مسلمانوں نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا۔علمائے سوء نے اسلام کے خوبصورت چہرے کو رسوم و رواج اور شرک و بدعت کے بدنما داغوں سے مسخ کر دیا۔اسلام کا سورج ہسپانیہ پر آہستہ آہستہ غروب ہونے لگا۔آپس کی خانہ جنگیوں ، شاہی محلات میں عیاشی کے دور دورہ ، علماء کے لالچ اور دین سے بے زاری نے آٹھ سو سالہ مستحکم حکومت کی صف چند ماہ میں لپیٹ کر رکھ دی اور مسلمان اس سرزمین سے بے یارو مددگار رخصت ہو گئے اس کے بعد وہاں عیسائیت نے بربریت اور درندگی کا وہ مظاہرہ کیا کہ تاریخ عالم کے جابر ترین حکمرانوں کے واقعات اس کے سامنے ماند پڑ گئے۔سپین کی خوبصورت اور عالی شان مساجد کو یا تو مسمار کر دیا گیا یا ان کو کلیسیاؤں میں تبدیل کر دیا گیا۔وہ باغات اور انہار جو مسلمانوں نے سالہا سال کی محنت شاقہ سے بنائی تھیں عیسائیوں کی بربریت نے ان کا بھی نام ونشان تک مٹا دیا ایک ایک دن میں کئی کئی لاکھ مسلمانوں کو تہ تیغ کیا گیا۔ننھے منے مسلمان بچوں کو نیزوں پر چڑھا کر دشمن اپنی بہیمیت پر اتر ایا اور اس کی نمائش کی گئی اور اس طرح مسلمانوں کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔