تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 77 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 77

تاریخ احمدیت۔جلد 26 77 سال 1970 ء وہ سنہرا اور عظیم الشان دور بلاشبہ ہر مسلمان کے دل میں یہ خواہش پیدا کرتا ہے کہ جب بھی موقع لے دو ہسپانیہ میں مسلمانوں کی سطوت وعظمت کو اپنی آنکھوں سے دیکھے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا ورود مسعود مئی ۱۹۷۰ء میں سرزمین ہسپانیہ کی قسمت ایک بار پھر جاگ اٹھی اور پہلے سے کہیں بڑھ کر شان سے جا گی جب سرزمین ہسپانیہ کو خدا تعالیٰ کے قائم کردہ خلیفہ حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے برکت بخشی اور کئی صدیوں کے بعد سپین کی روحانی طور پر بے آب و گیاہ سرزمین نے ایک بار پھر بہار کی آمد آمد کا مشاہدہ کیا۔۲۵ مئی ۱۹۷۰ء کو حضور پر نور بمع خدام لندن ائر پورٹ سے سپین کے لئے روانہ ہوئے اس تاریخی سفر میں حضور کی معیت میں حضرت بیگم صاحبہ کے علاوہ مندرجہ ذیل افراد تھے۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب، چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ ، چوہدری محمد علی صاحب، محمد سلیم صاحب ناصر اور بشیر احمد رفیق صاحب۔اس سفر کی رپورٹنگ کرتے ہوئے مکرم بشیر احمد رفیق صاحب نے تحریر کیا کہ ہوائی جہاز میں یہ سفر قریب دو گھنٹے میں طے ہوا۔جوں جوں میڈرڈ قریب آتا گیا۔حضور کی طبیعت میں ایک اضطراب کی سی کیفیت نظر آنے لگی میڈرڈ کا ہوائی اڈہ نظروں کے سامنے آیا تو حضور نے پیچھے مڑکر فرمایا۔و مجھے تو طارق کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز میں سنائی دے رہی ہیں۔کیا تم کو بھی سنائی دے رہی ہیں۔“ حضور نے یہ فقرہ دو تین مرتبہ بیقراری اور درد سے دہرایا۔اتنے میں اعلان ہوا کہ جہاز میڈرڈ کے ہوائی اڈہ پر اترنے کو ہے روحانی آنکھوں نے سینکڑوں فرشتوں کو میرے پیارے آقا کے استقبال کے لئے صف بستہ دیکھا اور یوں محسوس ہونے لگا گویا عالم روحانیت میں اس مبارک دن کی خوشی میں فتح وشادمانی کا جشن منایا جا رہا ہے۔حضور جہاز سے اترے تو مکرم مولوی کرم الہی صاحب ظفر مبلغ سپین بمع اہل و عیال استقبال کے لئے موجود تھے۔جلد ہی حضور اپنے ہوٹل کے لئے روانہ ہو گئے۔میڈرڈ میں قیام دو روز کے لئے تھا۔اس دوران اسلامی تہذیب کے گہوارہ صوبہ اندلس میں جانے کے لئے کاروں کا انتظام کیا گیا اور حضور