تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 75 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 75

تاریخ احمدیت۔جلد 26 75 سال 1970ء بشاشت سے اپنی رضا کارانہ خدمات اپنے آقا کے حضور پیش کر دیں اور دو گھنٹوں کے اندر اندر مخلصین جماعت نے ۲۷-۲۸ ہزار پونڈ کے وعدے کئے اور تین چار ہزار پونڈ کے قریب نقد رقم اپنے آقا کے قدموں میں ڈال دی۔حضور کے حکم سے فورا لندن میں نصرت جہاں ریزرو فنڈ“ کے نام سے نیا اکاؤنٹ کھول دیا گیا اور اس میں یہ ابتدائی رقم جمع کرا دی گئی۔اس طرح آسمانی سکیم کا سرزمین انگلستان سے پوری قوت و شوکت کے ساتھ آغاز ہوا۔محمود ہال لنڈن کا افتتاح ۲۳ مئی کو حضور نے لنڈن مشن کے احاطہ میں نو تعمیر شدہ محمود ہال کا افتتاح فرمایا۔یہ عالیشان عمارت ہال اور دفاتر کے علاوہ مبشرین کے تین رہائشی فلیٹس پر مشتمل تھی۔اس عمارت کا سنگ بنیاد حضور نے گزشتہ سفر یورپ کے دوران ۳۰ جولائی ۱۹۶۷ء کو اپنے دست مبارک سے نصب فرمایا تھا اور اس کے جملہ اخراجات حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے برداشت کئے تھے جیسا کہ جناب بشیر احمد خان صاحب رفیق سابق امام مسجد فضل لندن نے اپنی کتاب ” چند خوشگوار یادیں“ میں بالتفصیل ذکر کیا ہے۔اخبار الفضل (۲۶ مئی ۱۹۷۰ صفحہ۱) کی رپورٹ میں بھی لکھا ہے اس کی تعمیر محترم جناب چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے قائم کردہ ساؤتھ فیلڈ ٹرسٹ کے ذریعہ عمل میں آئی ہے۔نیز تاریخ احمدیت جلد ۲۴ صفحہ ۱۴۸ تا ۱۵۰ میں اس کا ذکر موجود ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا دورہ سپین کسی بھی خلیفہ امسیح کے پہلے دورہ سپین کی تفصیل بیان کرنے سے قبل سپین کی ایک مختصر تاریخ بیان کرنا ضروری ہے۔چھٹی ساتویں صدی عیسوی میں بادشاہانِ یورپ کی اخلاقی حالت درندوں سے بدتر تھی۔ظلم، نا انصافی ، بدمعاشی عروج پر تھی۔ایک عرصہ کے بعد جب مسلمانوں کی توجہ پین کی طرف پھری تو اس وقت بھی سپین پر لذریق نامی ایک ظالم شخص حکمران تھا۔لوگ اس کے مظالم اور بد اخلاقیوں سے بہت تنگ آچکے تھے اور اندر ہی اندر اس کے خلاف لا وا پک رہا تھا۔سبطہ کے گورنر کا ؤنٹ جولین جو ایک با اثر جرنیل تھا۔اس نے لذریق کے مظالم سے تنگ آکر موسیٰ بن نصیر حاکم مراکش کو تمام حالات لکھ ڈالے اور مدد کی درخواست کی۔موسیٰ بن نصیر نے کاؤنٹ جولین کے بیان کردہ حالات کی اپنے ایک خصوصی وفد کے ذریعہ تصدیق کرا لینے کے بعد اپنے آزاد