تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 64
تاریخ احمدیت۔جلد 26 64 سال 1970ء فرمایا کہ مسجد کا مالک اللہ تعالیٰ خود ہے یہ خدائے واحد کا گھر ہے۔جو شخص خدائے واحد کی عبادت کرنا چاہے وہ مسلمان ہو یا نہ ہوا سے حق حاصل ہے کہ وہ اپنے طریق پر فریضہ عبادت ادا کر سکے۔اس لحاظ سے مسجد تمام عبادت گاہوں ، گرجوں اور صومعوں کی پناہ گاہ اور محافظ بن جاتی ہے۔مسلم کانگریس سیرالیون کی طرف سے استقبالیہ 75 اسی روز حضور اس دعوت استقبالیہ میں بھی شامل ہوئے جو سیرالیون مسلم کانگرس کی طرف سے وسیع پیمانے پر حضور کے اعزاز میں دی گئی تھی۔اس موقع پر مسلم کانگرس کی طرف سے حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا گیا اور جماعت احمدیہ کی عظیم الشان اسلامی خدمات کا اعتراف کیا گیا تھا۔حضور نے اس موقع پر ایک نہایت مؤثر اور قلوب کو گرمادینے والی تقریر فرمائی۔تقریر کیا تھی زندہ خدا کی تائید و نصرت کی زندہ مثال تھی۔فصاحت و بلاغت اور روانی کا ایک سیلاب تھی جو سامعین کے شکوک و شبہات کوخس و خاشاک کی طرح بہا کر لے گیا۔حضور انور نے دوران تقریر بڑے جلال اور نہایت بلند آواز کے ساتھ اعلان فرمایا کہ:۔میں آپ سب کو پوری قوت سے یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اسلام کے غلبہ کا عظیم دن طلوع ہو چکا ہے۔دنیا کی کوئی طاقت اس حقیقت کو ٹال نہیں سکتی۔احمدیت فتح مند ہوکر رہے گی۔انشاء اللہ آئندہ پچیس سال کے اندر اندر اسلام کا غلبہ آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے میں بوڑھوں اور جوانوں ، مردوں اور عورتوں سے پکار کر کہتا ہوں کہ اللہ کے دین کی خاطر قربانی کے لئے آگے آؤ۔اسلام کی فتح کا دن اٹل ہے۔اگر چہ بادی النظر میں یہ چیز ناممکن نظر آتی ہے لیکن اللہ نے مجھے بتایا ہے کہ اسلام کے غلبے کا دن طلوع ہو چکا ہے۔اس کا فضل شامل حال رہا تو یہ بظاہر ناممکن ممکن ہو کر رہے گا۔حضور کے معرکۃ الآراء خطاب کے بعد کئی احباب ایک دوسرے سے فرط جذبات سے چمٹ گئے۔کوئی آنکھ نہ تھی جو نم نہ ہوئی ہو۔تمام حاضرین پر سحر کا عالم طاری تھا۔لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔ایک غیر از جماعت امام صاحب نے تسلیم کیا کہ ان کے سارے شکوک رفع ہو گئے ہیں۔بعض نے کہا اس تقریر کے بعد سیرالیون سارے مغربی افریقہ کے ممالک سے بازی لے گیا ہے۔حضور کی اس جلالی تقریر کا ٹیلیویژن ، ریڈیو اور پریس میں بہت چرچا ہوا۔76