تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 65
تاریخ احمدیت۔جلد 26 65 سال 1970ء بو میں مسجد احمدیہ کا سنگ بنیاد اور استقبالیہ تقریب و مئی کو حضور ”بو تشریف لے گئے جو سیرالیون کے جنوبی صوبہ بو کا اہم شہر ہے۔راستہ میں دو مقامات پر مقامی احمدیوں نے حضور کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔بو کے ہزاروں مخلصین نے گرمجوشی سے حضور کا خیر مقدم کیا۔شام کے وقت حضور احباب کے حلقہ کے درمیان تشریف فرما ہوئے اور رات گئے تک مجلس علم وعرفان جاری رہی۔امتی کی صبح کو حضور نے بو میں مرکزی احمد یہ مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔سنگ بنیاد کی تقریب میں احباب جماعت کے علاوہ کثیر تعداد میں غیر از جماعت مسلمان اور غیر مسلم معززین موجود تھے۔حضور نے اپنے خطاب میں اَنَّ الْمَسْجِدَ لِله کی پر معارف تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مسجد کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔کوئی انسان مسجد کی ملکیت کا حق نہیں رکھتا خواہ اس نے مسجد کی تعمیر کا سارا خرچ کیوں نہ برداشت کیا ہو۔مسجد کی یہی وہ قسم ہے جس کا حق ہے کہ اس میں عبادت کی جائے۔اس کی بنیاد تقوی اللہ پر رکھی جاتی ہے۔دیواریں نیکی سے چونا گچ کی جاتی ہیں اور چھت اس کی نصرت الہی سے بنائی جاتی ہے۔بعد ازاں حضور احمد یہ مشن ہاؤس تشریف لے گئے اور نذیر احمد یہ پرنٹنگ پریس“ کا معاینہ فرمایا۔اسی روز شام کو جماعت احمد یہ بونے حضور کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا جس میں اڑھائی صد احباب نے شرکت کی۔حضور تقریب کے دوران مدعوین کے درمیان گھل مل کر ان سے گفتگو فرماتے رہے۔اس موقع پر حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: حضور کا جانشین ہونے کی حیثیت سے حضور نے جو انعامی چیلنج دئے ہیں ان کے انعامات کی ادائیگی کا ذمہ دار میں ہوں لیکن کوئی مرد میدان ان انعامی دعوتوں کو قبول کرنے کی جرات نہیں پاتا۔احمد یہ سیکنڈری سکول کا معاینہ اور استقبالیہ میں شرکت امئی کو ریذیڈنٹ منسٹر پرنس جے ولیمز نے حضور سے ملاقات کی اور اسی روز ہی حضور نے احمد یہ سیکنڈری سکول کا معاینہ فرمایا ، جسے بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔احمد یہ سکول کے احاطہ میں اس