تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 54
تاریخ احمدیت۔جلد 26 54 سال 1970ء کے عظیم روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وہ قرآنی معارف سکھائے گئے جن کی زمانے کو ضرورت تھی۔اسلام پر موجودہ فلسفے اور سائنس کی طرف سے جتنے اعتراض بھی کئے گئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سارے اعتراض شافی جواب دیکر دور فرمائے۔حضور نے تمام معترضین کو چیلنج کیا۔کسی ایک کو بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے چیلنج کو قبول کرنے کی توفیق نہ ملی۔اس دعویٰ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دعوئی میں بچے ہیں۔اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے نور سے باہر اندھیرا ہے اس لئے ہمیں بہت کثرت سے درود شریف پڑھنا چاہئے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِک وَسَلَّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ 59 مورخہ ۲۸ / اپریل کو دوپہر کے وقت حضور انور نے احباب سے ملاقات فرمائی۔حضور انور نے دریافت فرمایا کہ آپ کو کس قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔جواب ملا کہ ہم لوگ بڑے خوش قسمت ہیں کہ حضرت خلیفہ امسیح کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ہم عرض کرتے ہیں کہ سکول کے لئے ہمیں کوئی مناسب عمارت خرید دی جائے جس پر حضور نے خرچ کا اندازہ دریافت فرمایا۔احباب جماعت سے دوسرا خطاب مورخہ ۲۸ ر اپریل کو نماز مغرب اور عشاء کے بعد حضور انور نے مسجد احمد یہ آبی جان میں تمام احباب جماعت سے مصافحہ فرمایا۔اس کے بعد حضور انور نے ایک نہایت پر معارف اور ولولہ انگیز خطاب فرمایا۔جس کا ترجمہ فرانسیسی اور جیولا زبانوں میں ساتھ ساتھ کیا گیا۔حضور نے فرمایا کہ نائیجیریا، گھانا، سیرالیون میں خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت بہت بڑھ گئی ہے۔یہاں آئیوری کوسٹ میں مشرکین بہت زیادہ ہیں۔اسلام کے پہلے مخاطب مشرکین عرب ہی تھے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مشرکین کو پہلے پیغام پہنچانا چاہیئے۔اگر ہم آپ ﷺ کے اسوہ پر عمل کریں اور اسلام کی حسین تعلیم مشرکوں تک پہنچائیں اور دعا کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ریں تو کوئی وجہ نہیں کہ جس طرح اسلام کی تعلیم نے مشرکین مکہ کے دل میں گھر کیا تھا۔یہاں کے مشرکین (pagans) بھی مسلمان نہ ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور جلال اور نبی اکرم علی کی عزت اور وقار کے قیام کے لئے آپ کو بھیجا گیا ہے آپ ضرور کامیاب ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے نبی