تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 53
تاریخ احمدیت۔جلد 26 53 سال 1970ء تھے۔حضور نے احباب سے ملاقات فرمائی اور بچوں نے حضور کی خدمت میں گلدستے پیش کئے۔پریس اور ٹیلیویژن کے نمائندے بھی موجود تھے۔حضور نے پریس کے لئے انٹرویو دیا اور پھر جائے قیام پر تشریف لے گئے۔نماز مغرب مسجد احمدیہ میں ادا فرمائی جس کے بعد احباب سے خطاب فرمایا۔اس کے بعد حضور انور وی۔آئی۔پی لاؤنج میں تشریف لے گئے جہاں پر لیس اور ٹیلی ویژن کے نمائندے موجود تھے۔پریس کے نمائندے نے حضور سے انٹر ویولیا۔حضور نے فرمایا کہ ہماری اصل غرض تو روحانی ہے اور خدائے واحد کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہے۔ثانوی غرض اوّل یہ ہے کہ جماعت کے دوستوں سے ملاقات کریں نیز معلوم کریں کہ اس ملک کی کیا خدمت کر سکتے ہیں اور آپ لوگوں سے بھی ملنے کا شوق تھا۔اگر آپ لوگ اپنی روحانی، اخلاقی اور جسمانی صلاحیتوں کا پورا اور صحیح استعمال کریں تو ممکن ہے کہ آپ ساری دنیا کے معلم بن جائیں۔ایسے صحیح استعمال کی تو فیق صرف دعا سے ہی ملتی ہے۔اصل توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف کرنی چاہیئے۔فرمایا ہم دو روز یہاں قیام کریں گے اس لئے یہ آپ کا کام ہے کہ آپ اپنے متعلق مجھے بہت سی معلومات بہم پہنچائیں۔ایک سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ نائیجیریا اور غانا دونوں ملکوں میں ہماری بڑی بڑی جماعتیں ہیں۔غانا میں ہمارے دو احمدی بھائی وزیر ہیں۔اسی طرح لیگوس ( نائیجیریا) میں دو احمدی حج ہیں۔58 بعد ازاں حضور ہوائی مستقر کے ہال میں تشریف لے گئے جہاں احباب و خواتین اور معززین شہر صف بستہ کھڑے تھے۔بچیوں نے خوش الحانی سے اھلا و سھلا مرحبا یا امیر المؤمنین پڑھا۔اس کے بعد حضور انور نے مردوں سے اور حضرت سیدہ بیگم صاحبہ نے مستورات سے مصافحہ فرمایا۔یہاں سے فارغ ہو کر حضور آئیوری کوسٹ انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں تشریف لے گئے۔احباب جماعت سے پہلا خطاب مورخہ ۲۷ / اپریل کو بعد از نماز مغرب حضور انور نے احمد یہ مسجد آبی جان میں احباب جماعت سے ایک روح پر ور خطاب فرمایا جس کا ترجمہ فرانسیسی اور مقامی زبان ”جیولا‘ میں ساتھ ساتھ کیا گیا۔اس خطاب میں حضور انور نے فرمایا کہ میں آپ لوگوں سے مل کر بہت خوش ہوا۔قرآنِ کریم کتاب مبین ہے اور کتاب مکنون بھی۔کتاب مکنون کے راز وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر محمد رسول اللہ ﷺ کے فرزندوں پر کھولے جاتے ہیں اور اس طرح کتاب مبین بن جاتے ہیں۔قرآن کریم ہر زمانے کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔اس زمانے کے مسائل کو حل کرنے کے لئے محمد رسول اللہ علی