تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 373
تاریخ احمدیت۔جلد 26 373 سال 1970ء کم و بیش ۷۰ ہزار روپے جمع کر کے گذشتہ سال سے بڑھ کر مالی قربانی کا شاندار مظاہرہ کیا۔کانفرنس کے نام حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے روح پرور پیغام کا متن جلد ھذا کے صفحہ اپر دیا جا چکا ہے۔یہ پیغام جملہ حاضرین کے ایمانوں میں نمایاں اضافہ کا موجب بنا۔آنریبل وزیر مواصلات جناب ہارون اسیکو نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ آج سے ۴۸ سال قبل جماعت احمدیہ کے پہلے مبلغ کا ورود غانا کی اسلامی تاریخ میں یادگار رہے گا۔آج تک جماعت احمدیہ نے بے لوث خدمت کی ہے۔خصوصاً مذ ہبی اقدار کی ترویج اور باشندوں کی علمی ترقی کے لئے وسیع پیمانے پر سکولوں کا قیام بہت ہی قابل قدر ہے۔کام شروع کرنے والے پہلے مبلغین نے بہت کی صعوبتیں اٹھا ئیں لیکن ثابت قدمی اور اخلاص کی وجہ سے بالآخر کامیابی حاصل ہوئی۔دوران تقریر جب آپ نے فرمایا کہ خود میرے والد جماعت احمدیہ کے ابتدائی معاونوں میں سے ہیں اور میری والدہ اس وقت بھی سامنے حاضرین کے گروہ میں بیٹھی ہوئی ہیں تو خوشی ومسرت سے حاضرین نے نعرہ تکبیر اور جماعت احمدیہ زندہ باد کے نعرے بلند کئے۔آنریبل مبارک آدم وزیر برائے پارلیمانی امور نے اپنے صدارتی خطاب میں جماعت احمدیہ غانا کی دو ممتاز اور مرحوم شخصیات جناب ویمہ صاحب (الحاج ابودیمہ صاحب کے والد ماجد ) اور الحاج صالح صاحب ( آپ کی قربانیوں اور خدمات دینی کی بدولت ہی وا کی فعال جماعت قائم ہوئی ) کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا۔تیس سال قبل زمانہ طالب علمی کی بات ہے شمالی علاقہ کے سبھی بچے (اکثریت مسلمانوں کی تھی ) ہر روز صبح سکول میں لارڈ کی دعا مانگا کرتے تھے۔عیسائی مذہب کے ہی اساتذہ تھے۔ان دنوں میں ایک استاد جناب ویمہ نام کے ملے۔مسلمان اور قوت اسلام کے پیکر جناب و یمہ مرحوم نے انتھک کام کیا اور اسلام کو شمالی علاقہ میں خوب مضبوط کیا۔اگر جناب و یمہ مرحوم جیسے دس آدمی ان کی نسبت ایک چوتھائی کام بھی کریں تو اسلام تیزی سے پھیل جائے۔دوسرے صاحب جن سے میں بہت متاثر ہوا ہوں اور جو میرے اپنے ہی شہر ” و “ سے تعلق رکھتے تھے الحاج صالح مرحوم تھے۔میں خوب جانتا ہوں کہ نئی بات کو قبول کرنا اور پھر دوسروں سے منوانا کتنا مشکل کام ہے۔لیکن جب الحاج صالح مرحوم نے احمدیت قبول کی تو مخالفتوں اور دشمنوں کے مقابلہ میں بڑی ہمت سے ڈٹ گئے حتی کہ ان کے مخالفین نے بھی حق کی فتح کو محسوس کیا۔شمالی غانا کی تاریخ میں یہ حیرت انگیز کام تھا جو الحاج صالح مرحوم نے انجام دیا۔ہم سب کو ان سے سبق لینا چاہیے۔