تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 374
تاریخ احمدیت۔جلد 26 374 سال 1970ء جلسہ کے اختتامی اجلاس میں یہ ریزولیوشن بھی بالا تفاق منظور کیا گیا۔غانا کے مسلمانوں کے لئے تین سرکاری چھٹیاں دی جائیں یعنی عیدین اور میلادالنبی کے موقع پر۔یہ بھی پاس ہوا کہ اس کی کاپی وزیراعظم غانا اور متعلقہ افسران کو بھجوائی جائے۔الحاج مولوی عطاء اللہ صاحب کلیم امیر و مشنری انچارج غانا نے اختتامی خطاب میں فرمایا کہ جماعت احمد یہ غانا یکم مارچ ۱۹۷۱ء کو اپنی زندگی کے پچاس سال پورے کرے گی۔اس موقع پر کوئی شایانِ شان کام ہونا چاہیے مثلاً جیسا کہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر نے ارشاد فرمایا ہے جماعت غانا کی مکمل تاریخ تیار ہو جانی چاہیے۔احباب کو اس امر کی طرف توجہ دینی چاہیے اور اپنے قبول احمدیت کے حالات تحریری طور پر اپنے مرکز سالٹ پانڈ میں پہنچانے چاہئیں۔جلسہ سالانہ کی کارروائی کا ذکر روز نامہ دی غانین ٹائمنر (۹و۱۲ جنوری ۱۹۷۰ء) اور روز نامہ ڈیلی گرافک (۱۰ جنوری ۱۹۷۰ء) نے نمایاں طور پر شائع کیا۔ریڈ یو غانا نے نیوز بلیٹن میں ۸جنوری کو انعقاد جلسہ کی خبر دی اور بعد میں مختلف مواقع کی تقاریر کے اقتباسات نشر کئے۔اسی طرح غانا براڈ کاسٹنگ ٹیلیویژن میں جلسہ کے مختلف پروگرام ٹیلی کاسٹ ہوئے۔اس طرح پورے ملک میں اس جلسہ کی کارروائی دیکھی گئی۔نجی درج ذیل معلومات مطبوعہ رپورٹ از یکم جنوری تا جون ۱۹۷۰ء سے تلخیص کی گئی ہیں۔ڈاکٹر سید ظہور احمد شاہ صاحب نے تقریباً سوا دو ہزار میل کا دورہ کیا اور تبلیغی ، تربیتی اور تعلیمی امور کی طرف احباب کو توجہ دلائی۔11 جنوری ۱۹۷۰ء کو ریڈیونی نے آپ کی ایک تقریر نشر کی جس کا متن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات پر مشتمل تھا۔یو نیورسٹی آف دی ساؤتھ پیسفک کی تقریب کے موقع پر متعدد لوگوں سے تعارف ہوا اور انہیں احمد یہ سنٹر ساما بولا میں آنے کی دعوت دی۔چنانچہ ان میں سے بعض مرکز میں آئے اور لٹریچر حاصل کیا۔آپ نے ایگریکلچر سکول کارو نیو پا میں ایک علمی لیکچر دیا اور سوالوں کے جواب دیئے۔اس ادارے میں نجی کے علاوہ جنوبی بحرالکاہل کے دیگر جزیروں کے طلباء اور طالبات بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔زائرین میں سے یو نیورسٹی آف ساؤتھ پیسفک کے ایک آسٹریلین پروفیسر بالخصوص قابل ذکر ہیں جنہیں اسلام سے متعلق معلومات کے علاوہ لٹریچر بھی دیا