تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 372
تاریخ احمدیت۔جلد 26 372 سال 1970ء طلبہ کو قبول کرتے وقت عقائد اور فرقہ بندی کی تفریق کو بنیاد نہیں بناتے۔یہ ایک صحت مند تغیر ہے جسے ہم سب مسرت اور ممنونیت کے جذبات کے ساتھ قبولتے ہیں۔یہ صحتمند انقلاب بر پا کرنے میں احمدیہ مشن نے کتنا کردار ادا کیا ہے اس وقت بتانا آسان نہیں۔لیکن اس حقیقت سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کر سکتا کہ تبلیغ کے میدان میں صحتمندانہ مسابقت کا عنصر احمدیت نے آکرا جا گر کیا ہے۔اپنے خطاب کے آخر میں آپ نے حضرت بانی جماعت احمدیہ کوخراج عقیدت پیش کیا۔اسی طرح ابتدائی مشنریوں کی گرانقدر خدمات کو بھی سراہا اور سیرالیون کے احمدیوں کے اخلاص کی تعریف کی۔آخر میں آپ نے کہا :۔”میری آرزو ہے کہ احمدیہ مشن سیرالیون میں دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرے۔اگر ز مینی مدد کی یقین دہانی کی خدائی سلسلہ کو ضرورت ہے (اور مجھے یقین ہے کہ اس کی ضرورت نہیں ) تو میں یقین دلاتا ہوں کہ حکومت سیرالیون مقدور بھر کوشش کرے گی کہ ہمارے معاشرہ میں احمد یہ مشن کو بھر پور کردار ادا کرنے کا موقع ملے“۔مہمان خصوصی کے خطاب کے بعد پہلی نشست ختم ہوئی۔وزیر موصوف اور دیگر حکام امیر محترم کی معیت میں احمدیہ سیکنڈری سکول دیکھنے تشریف لے گئے اور بیالوجی ، کیمسٹری اور فزکس کی مزین تجربہ گاہیں دیکھیں اور سکول کی ترقی پر اظہار مسرت کیا ڈاکٹر فورنا نے لاگ بک“ میں مندرجہ ذیل الفاظ رقم فرمائے :۔کیسویں سالانہ کانفرنس کے موقع پر احمد یہ جماعت کے مسلم بھائیوں اور بہنوں کے درمیان اپنے آپ کو پا کر مجھے بیحد مسرت ہوئی۔احمد یہ سکول کی روز افزوں ترقی سے مجھے بے حد اطمینان ہوا۔مجھے یقین ہے کہ سیرالیون کی مذہبی اور تعلیمی ترقی کی جدوجہد میں جماعت احمد یہ عظیم الشان کردار ادا کرے گی۔ایم۔ایس۔فورنا۔وزیر مالیات“۔غانا اس سال ۸ ۹ ۱۰ جنوری ۱۹۷۰ء کو جماعتہائے احمد یہ غانا کا ۴۵ واں سالانہ جلسہ سالٹ پانڈ میں منعقد ہوا جلسہ میں 4 ہزار سے زائد افریقن مخلص احمدیوں کے علاوہ حکومت کے وزراء اور سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔غانا کے ایثار پیشہ احمدیوں نے اس موقع پر ۸ ہزارسیڈی سے زائد یعنی قریباً