تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 349
تاریخ احمدیت۔جلد 26 349 سال 1970ء الغرض مقالہ بہت محنت سے تیار کیا گیا تھا اور اس پر زبان و بیان کی خوبی نے اسے چار چاند لگا دیئے تھے۔مقالہ کے بعد بحث کے دوران سیٹھ محمد اعظم صاحب نے افراد جماعت احمدیہ کے ساتھ نواب صاحب مرحوم کے دوستانہ تعلقات اور ان کی طرف سے جماعت احمدیہ کی علمی اور اسلامی خدمات کے اعتراف اور قادیان میں ان کی تشریف آوری پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔آخر میں صدر مجلس نے کامیاب مقالہ پیش کرنے پر سیٹھ صاحب کو مبارک باد دی۔ربوہ کا ذکر ہفت روزہ سنگ میل میں ہفت روزہ سنگ میل (تیہ ) (لیہ پہلے مظفر گڑھ کے ضلع میں تھا اب یہ خود ضلع بن گیا ہے ) نے اس سال ربوہ۔پاکستان کا پہلا فلاحی اور مثالی شہر کے زیر عنوان حسب ذیل نوٹ سپر دا شاعت کیا:۔مغربی پاکستان کے رومانی دریا چناب کے شمالی کنارے پر ایک ایسا شہر آباد ہے جو پاکستان کے پہلے فلاحی اور مثالی شہر کی حیثیت سے آہستہ آہستہ ابھر رہا ہے۔جس خطہ ارضی پر یہ شہر آباد ہے آج سے بیس سال قبل وہاں پر چند خشک پہاڑی ٹیلوں کے دامن میں شور زدہ بے آب و گیاہ چٹیل میدان کے سوا کچھ نہ تھا۔پورے ماحول پر پر ہول فضا میں صدیوں سے گہری خاموشی کی پر اسراریت کا ہیولہ قائم تھا سبزے اور ہرے بھرے درختوں کا دور دور تک کہیں نشان نہ ملتا تھا۔زیر زمین پانی کا جو ذخیرہ تھا وہ نا قابل استعمال اور سخت کڑوا تھا۔ان تمام عوامل قدرت نے مل کر اس خطہ کو انسانی تصرف کے نا قابل اور غیراہم بنادیا تھا۔حکومت کے ریکارڈ میں بھی یہ علاقہ نا قابل کاشت اور بنجر تھا۔یہی وجہ ہے کہ کسی کی اس پر نظر نہ اٹھتی تھی لیکن قدرت کی کتاب میں اس خطہ ارضی کے لئے ایک وقت مقرر تھا۔ایک موڑ جو صبح ستارے کی طرح طلوع ہوتا اور نئی برکتیں دے جاتا ہے۔میں سال پہلے ایک خاموش صبح کے ظہور کے ساتھ ہی اس خطہ زمین نے انقلابی کروٹ لی اور یہاں چند باہمت دیوانوں نے ناممکن کو ممکن بنانے ، نیست کو ہست میں بدلنے کے لئے ڈیرے ڈال دیئے۔وہ یہاں کی گھمبیر خاموشی کو عارضی وقفے کے لئے توڑنے ہی نہیں بلکہ ایک رواں دواں شہر آباد کرنے کے لئے جوان ولولے لے کر گھروں سے نکلے تھے۔اب یہی مسکرا تا شہر اپنی جواں ہمت دیوانوں کے خواب کی حسین تعبیر بن کر ابھر رہا ہے۔یہ شہر