تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 348 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 348

تاریخ احمدیت۔جلد 26 348 سال 1970ء کارناموں پر ایک مبسوط اور معلومات افروز مقاله سپرد قلم فرمایا جو مئی ۱۹۷۰ء کی شام کو تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے خصوصی اجلاس میں پڑھ کر سنایا گیا جس کی صدارت قاضی محمد اسلم صاحب ایم اے ( کینٹب) پرنسپل نے کی۔سیٹھ صاحب نے اپنے پر مغز مقالہ میں بتایا کہ ان کی زندگی دکن کے مسلمانوں کی قومی تاریخ کا سب سے زیادہ دلکش اور زریں باب ہے۔ان کی قومی وملی خدمات ان کے روشن اور درخشندہ کارنامے ہیں۔ان کے کارناموں کو اس نظر سے دیکھنا کہ یہ کسی فرد واحد کی ذات سے متعلق تھے شاید صحیح نقطہ نظر نہ ہو۔ان میں ایک نیم مردہ قوم کا شعور بیدار ہوتا نظر آتا تھا اور صداقت وخلوص ، جرأت و بیبا کی ، عزم وولولہ، ایثار و قربانی ایسا معلوم ہوتا تھا پھر سے زندہ ہو گئے ہیں۔ایک مسلسل تڑپ ، ایک پیہم کوشش ، ایک لگا تار تگ و دو، ایک لگن یا غالب کے الفاظ میں ایک جذبہ بے اختیار تھا جو بہادر یار جنگ کی مختصر زندگی کے ہر پہلو میں جاری وساری دکھائی دیتا تھا اور اسی جذبہ بے اختیار کی جھلکیاں ان کے کارناموں میں نظر آتی ہیں۔نواب بہادر یار جنگ کو فن خطابت میں جو ید طولیٰ حاصل تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے صاحب مقالہ نے ان کی تقریروں کے چیدہ چیدہ اقتباسات پیش کر کے ثابت کیا کہ وہ ایک سحر طراز اور جادو بیان مقرر تھے اور سامعین ان کی سحر بیانی سے اس قدر متاثر ہوتے کہ ان کے ایک اشارہ پر قومی وملی مفاد کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو جاتے۔ان کے اس غیر معمولی وصف کے ضمن میں صاحب مقالہ نے فرمایا اس ساحری کا اصل راز در اصل ان کا جذب اندروں تھا، ان کی تڑپتی ہوئی روح تھی، ان کا مچلتا ہوا دل تھا عشق کی بھڑکتی ہوئی آگ تھی اور ان کی نوائے تیز تھی جو محفل کو گرمائے رکھتی تھی۔صاحب مقالہ نے نواب صاحب مرحوم کی سیرۃ کے اس پہلو کو بھی بہت عمدہ اور موثر انداز میں پیش کیا کہ نظام دکن میر عثمان علی خان مرحوم کے ساتھ ایک قومی وملی معاملہ میں مخالفت اور ان کی ناراضگی کے پیش نظر نواب صاحب مرحوم نے بلا توقف اپنا خطاب اور چار لاکھ روپے سالانہ آمد کی جا گیر اور دیگر اعزازات یہ کہ کر واپس کر دئیے کہ ”میں اُن (نظام) سے اپنی غیر متزلزل ہر قسم کے شبہ سے پاک عقیدت کے باوجود سمجھتا ہوں کہ ان کی ناراضگی کے بعد وہ رزق میرے لئے جائز نہیں ہے جوخدا نے ان کے ذریعہ مجھے دیا ہو۔اور جنسی خوشی پھر عسرت و تنگی کی زندگی اختیار کر لی اور جب نظام دکن نے جاگیر بحال کرنا چاہی تو اس مرد غیور نے اسے واپس لینے سے انکار کر دیا۔