تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 23
تاریخ احمدیت۔جلد 26 23 سال 1970ء شاعر اور ادیب طناز ہیں اس میدان میں بھی میں ان کا حریف نہیں ہوں لیکن اگر وہ مجھے اخبار نویسی کے اخلاق بتانا چاہیں یا مجھے عقیدہ کی پاکیزگی کے متعلق کوئی سبق دینا چاہیں تو مجھے ادب کے ساتھ ان سے یہ عرض کرنا ہے کہ ان دونوں امور کے متعلق مجھے ان سے کچھ بھی سیکھنا نہیں۔اخبار نویسی اور دھڑے بازی میں ایک بنیادی فرق ہے، ایسا ہی فرق جو ایک عفیفہ بیوی اور داشتہ میں ہوتا ہے۔ایک اخبار نویس جو اس اصول پر گامزن ہو کہ ” میرا دوست غلطی نہیں کر سکتا ایک اچھا کر دھڑے باز تو ہوسکتا ہے لیکن ایک اچھا اخبار نویس نہیں کہلا سکتا اور ایسے اخبار نویس کے قلم پر لوگوں کو کبھی اعتماد نہیں ہو سکتا لیکن ایک ایسا اخبار نویس جو اس اصول کا پابند ہو کہ اگر میرا دوست غلطی پر ہے تو میں اسے بھی نگا کروں گا وہ ممکن ہے کہ دنیا کے عام معیار کے مطابق ایک اچھا دوست نہ ہو لیکن وہ ایک قابل اعتماد صحافی ضرور ہے ایک اخبار نویس جس کی صحافتی دیانتداری پر عوام کو اعتماد نہ ہو ایک ٹکے کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔میں نے ۱۹۳۷ء میں اخبار نویسی کے میدان میں قدم رکھا تھا اُس وقت سے لے کر آج تک بے شمار جلسوں، جلوسوں ، میٹنگوں ، کانفرنسوں کی روئیداد رپورٹ کرتا رہا ہوں میں نے رپورٹ لکھتے وقت کبھی نہیں سوچا کہ مقرر کس درخت کی کونسی شاخ ہے یا کس قبیلہ سے تعلق رکھتا 25-4 ہے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا طلبات تعلیم الاسلام ہائی سکول سے خطاب ۱۹ مارچ ۱۹۷۰ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول میں جماعت دہم کی الوداعی تقریب تھی۔سید نا حضرت خلیفة اصبح الثالث نے کمال شفقت اور مہربانی سے اس میں شرکت کی درخواست قبول فرمالی تھی۔چنانچہ حضور اس تقریب میں رونق افروز ہوئے اور اس موقع پر حاضرین سے ایک پُر معارف خطاب فرمایا جس میں آیت اَنَّ اللهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ (لقمان: ۲۱) کی روشنی میں طلباء کو بتلایا کہ قرآن کریم نے ہمیں یہ کہا ہے کہ اپنا عام علم جسے جنرل نالج کہتے ہیں اسے بھی بہت بڑھاؤ۔پس یہ قرآن کریم کا حکم ہے کہ جنرل نالج بھی بہت وسیع ہونا چاہیے اور مطالعہ بھی گہرا ہونا چاہیے اور قرآن کریم کا یہ حکم اس آیت میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آسمان اور زمین کی ہر چیز تمہارے لئے مسخر کی ہے ہر چیز تمہارے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہے اور ہر چیز سے فائدہ اٹھانے کے لئے کما حقہ علم حاصل کرنا ضروری ہے کیونکہ ہم اس سے کما حقہ فائدہ تبھی اٹھا