تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 22 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 22

تاریخ احمدیت۔جلد 26 میں تنقید کی کہ:۔22 سال 1970ء جسٹس سجاد احمد جان سپریم کورٹ کے انتہائی قابل احترام جوں میں سے ہیں۔نیک نفس ہونے کے علاوہ علم وادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔انہیں علامہ اقبال کے فکر اور مولانا ظفر علی خان کے ادب سے دلی لگاؤ ہے لیکن افسوس کہ انہوں نے لاہور میں ایک ایسے مذاکرہ کی صدارت کی جو میرزا طاہر احمد کی تقریر کے لئے منعقد کیا گیا۔جس کا پس منظر قادیانی نبوت کی اولا دکولوگوں میں انٹروڈیوس کرانا ہے۔وو 24 ہم نے جناب میش کی ڈائری کو تعجب سے پڑھا۔حیرت ہے کہ ایک طرف تو وہ مرکز یہ مجلس اقبال کے ارکان پر ختم نبوت اور اقبال کے موضوع پر مقالہ پڑھانے پر زور دے رہے ہیں دوسری طرف انہیں میرزا طاہر احمد کی تقریر عین اسلام محسوس ہوتی ہے۔م۔ش صاحب بتا سکتے ہیں کہ وہ کس طرح اس مذاکرہ میں پہنچے، خود گئے؟ بلوائے گئے؟ اور پھر ہضم کیسے ہو گئے؟ افسوس ہے کہ م۔ش صاحب نے یہ بالکل نہیں بتایا کہ مرزا طاہر احمد کس ٹہنی کا پھول ہیں“۔اس اخلاق سوز اور زہر یلے نوٹ کے جواب میں جناب میاں محمد شفیع صاحب نے تحریر فرمایا کہ:۔چند روز ہوئے وائی۔ایم سی۔اے لاہور میں مسٹر جسٹس سجاد احمد جان حج سپریم کورٹ کی زیر صدارت مرزا طاہر احمد نے اسلام کے اقتصادی نظام کے موضوع پر ایک تقریر کی جس میں انہوں نے قرآن، احادیث اور تاریخ اسلام کی روشنی میں اپنے موضوع پر اظہار خیال کیا۔تقریر کے خاتمہ پر صدر مجلس مسٹر سجاد احمد جان نے نہایت دلکش انداز میں اسلام کے اقتصادی نظام کی کامیابی کے لئے اسلام کے اخلاقی اور روحانی نظام کے قیام کو ضروری قرار دیا۔میں نے اس جلسہ کی کارروائی پر اس کالم میں تبصرہ کرتے ہوئے مرزا طاہر احمد کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے نہایت سلجھے ہوئے انداز میں اسلام کے اقتصادی نظام کے حسن و جمال کو اجاگر کیا اور اس امر پر اظہار تاسف کیا کہ ایک ایسے موضوع پر جس کے متعلق ملک میں بے حد چر چاہے ایک نہایت اچھی تقریر کا اخبارات نے کماحقہ نوٹس نہیں لیا۔اس پر چٹان کے ایڈیٹر حضرت آغا شورش کا شمیری نے تبصرہ کرتے ہوئے ناراضگی کے اظہار کے طور پر مجھ سے استفسار کیا ہے کہ میں اس جلسے میں کیوں اور کیسے گیا؟ اور یہ کہ آیا مجھے معلوم ہے کہ مرزا طاہر احمد کس درخت کی شاخ ہیں وغیرہ وغیرہ۔حضرت آغا شورش کاشمیری ملک کے ایک نامور خطیب ہیں۔اس لحاظ سے میری حیثیت ان کے مقابلے میں ایک مبتدی کی بھی نہیں۔وہ ایک نغز گو