تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 24
تاریخ احمدیت۔جلد 26 24 سال 1970ء سکتے ہیں جب کہ ہمیں اس چیز کا علم ہو۔حضور نے مزید فرمایا کہ میں اس وقت یہ نہیں کہہ رہا میرا مطالبہ آپ سے یہ نہیں ہے کہ تم ایک مہینے کے اندر اندر خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ تمام اشیاء کا سارا علم حاصل کر لو یہ تو تمہارے لئے ممکن نہیں ہے، کسی بھی انسان کے لئے ممکن نہیں ہے فرد واحد کے لئے ہی نہیں بلکہ نسل انسانی کے لئے بھی یہ مکن نہیں ہے اور یہ اس جلوے کہ جس طرح انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی صفات کے غیر محدود جلوے اثر انداز ہورہے ہیں۔اس عالمین پر بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کے غیر محدود جلوے اثر ڈال رہے ہیں لیکن میں آج آپ سے یہ مطالبہ ضرور کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے ماحول میں دلچسپی لیں اور زیادہ سے زیادہ اشیاء کا زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔مقام محمد یت پر ایک نہایت پر معارف خطبہ سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث نے ۲۰مارچ ۱۹۷۰ءکوصفات باری کے مظہر اتم اور انسا نیت کے محسن اعظم حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم روحانی تجلیات پر ایک نہایت پر معارف اور ولولہ انگیز خطبہ ارشاد فرمایا جس میں مقام محمدیت کی عظمت، شان اور جلالت مرتبت کا نقشہ کھینچتے ہوئے اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ اگر بصیرت اور عرفان کی آنکھ سے دیکھا جائے تو خاتم الانبیاء زندہ باد اور انسانیت زندہ باد کے عارفانہ نعرے جماعت احمدیہ کے سوا اور کوئی نہیں لگا سکتا۔چنانچہ ارشاد فرمایا:۔مقام محمدیہ کی جو معرفت ہمیں حاصل ہے آج وہ ہمارے غیر کو حاصل نہیں۔اس میں شک نہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اس وقت تک کروڑوں، اربوں لوگ ایسے پیدا ہوئے جنہیں اپنے اپنے ظرف کے مطابق یہ معرفت ملی۔ہم نے اس عرفان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند کے ذریعہ حاصل کیا ہے اور پہلوں کی طرح جنہیں یہ عرفان اور معرفت عطا ہوئی تھی حقیقی معنی اور عارفانہ رنگ میں آج اگر کوئی ” خاتم الانبیاء زندہ باد کا نعرہ لگا سکتا ہے تو وہ ہم ہی ہیں۔ہم جب ” خاتم الانبیاء زندہ باد ختم المرسلین زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں تو ہمارا یہ نعرہ عارفانہ نعرہ ہے۔ہم اس حقیقت کو پہچانتے ہیں اور ہمارے دل کی گہرائی ، ہماری روح کی وسعتوں اور ہمارے جسم کے ذرہ ذرہ سے یہ آواز بلند