تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 21
تاریخ احمدیت۔جلد 26 21 سال 1970ء (حضرت) صاحبزادہ مرزاطاہر احمد صاحب کا وائی ایم سی اے ہال لاہور میں بلند پایہ پیکچر ۱۵ مارچ ۱۹۷۰ء کو (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے وائی ایم سی اے ہال (لاہور) میں مجلس حسن بیان خدام الاحمدیہ لاہور کے زیر انتظام ایک بلند پایہ علمی لیکچر دیا۔پاکستان کے مشہور صحافی اور بزرگ مسلم لیگی لیڈر جناب میاں محمد شفیع صاحب (مش) نے اس تقریب کے متعلق اپنی ڈائری میں لکھا:۔اتوار کو وائی ایم سی اے ہال میں مسٹر جسٹس سجاد احمد جان جالندھری کی زیر صدارت جناب مرزا طاہر احمد نے قرآن عظیم، احادیث نبوی اور تاریخ اسلام کے حوالوں سے اسلام کے اقتصادی نظام پر ایک اعلی پایہ کی تقریر میں اسلامی اقتصادیات کی پاکیزگی، جامعیت اور برتری کو اجاگر کیا۔انہوں نے سوشلزم کا نام لئے بغیر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلامی اقتصادی نظام استحصال پسندی اور طبقاتی نفرت کے خاتمہ کی مؤثر ضمانت ہے۔انہوں نے قرآن کریم کی آیات کے حوالے سے اپنے سننے والوں کے دل میں (کم از کم میرے دل میں ) اس امر کے متعلق کسی قسم کے تذبذب یا شک کی گنجائش نہ رہنے دی کہ اسلام سرمایہ داری کو جس میں دولت کی محبت ، ارتکاز ، اکتناز (خزانے کا دولت سے پُر ہونا ) ، سود خوری اور استحصال شامل ہیں، مہیب ترین لعنت تصور کرتا ہے اور ایسے سرمایہ داروں کے لئے دوزخ کے بے پناہ عذاب کی بشارت دیتا ہے۔اسلام اعلیٰ اخلاقی اور روحانی اقدار کی اساس پر ایک ایسا متوازن قدرتی اقتصادی نظام رائج کرنا چاہتا ہے جس میں انفرادی اور قومی دولت میں لوگ خیرات اور مراعات کے طور پر نہیں بلکہ حق کے طور پر دعویدار تسلیم کئے جاتے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ اخبارات نے مرزا طاہر احمد کی اس پر مغز تقریرکا کماحقہ نوٹس نہیں لیا۔ممکن ہے ان کے نقطۂ نگاہ سے اس میں کاپی نہ ہو کیونکہ انہوں نے نہ تو کسی کو برا بھلا کہا اور نہ کسی کو چیلنج ہی دیا بلکہ نہایت رواں اور سلجھے ہوئے انداز میں اپنے فقروں اور دلیلوں کو دہرائے بغیر اسلامی اقتصادی نظام کی خوبیوں اور عظمتوں کو اجاگر کیا۔تاہم اگر اس مجلس کے منتظمین مرزا صاحب کی اس تقریر کے متن کو پمفلٹ کی شکل میں شائع کر سکیں تو بقول حضرت آغا شورش کا شمیری مادر پدر آزاد سیاسی ٹیڈیوں کا اس کے پڑھنے سے بھلا ہو گا۔شورش کاشمیری صاحب ایڈیٹر ہفت روزہ ” چٹان نے ڈائری کی اشاعت پر حسب ذیل الفاظ