تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 300 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 300

تاریخ احمدیت۔جلد 26 300 سال 1970ء ہوں۔مرحوم کی میت کو ربوہ لایا گیا۔مورخہا ا فروری ۱۹۷۰ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے ارشاد پر محترم مولانا ابوالعطاء صاحب نے جنازہ مسجد مبارک کے باہر پڑھایا اور بعد ازاں بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔مرزا اعظم بیگ صاحب کلانوری ٹھیکیدار ریلوے وفات: ۱۸ فروری ۱۹۷۰ء کلانور ( ضلع گورداسپور ) جہاں شہنشاہ جلال الدین اکبر ۶ ۱۵۵ء میں تخت نشین ہوا آپ کا مولد ہے۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مرزا رسول بیگ صاحب (وفات ستمبر ۱۹۱۷ء) کے فرزند حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب (وفات ۲۸ را پریل ۱۹۰۰ء) اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب ( غیر مبائع ) کے بھتیجے اور حضرت سید ناصرشاہ صاحب کے داماد تھے۔بڑی پُر وقار اور وجیہ شخصیت کے مالک تھے۔کردار میں مضبوطی اور پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کی ہستی پر زبر دست ایمان تھا۔نہایت متوازن جسامت چہرے سے رعب ٹپکتا لیکن طبیعت میں اتنی ہی نرمی ، ملائمت اور انکساری تھی۔آپ کی گفتگو زیادہ تر قرآن پاک اور دنیاوی علوم کے موضوع پر ہوتی۔زراعت اور اس کے سائنسی پہلوؤں سے آپ کو خاص دلچپسی تھی گو آپ نے کالج کی تعلیم حاصل تو نہ کی تھی لیکن بلا کی ذہانت پائی تھی اور مطالعہ کا بہت شوق تھا اس لئے دنیاوی علوم میں بھی بہت ملکہ رکھتے تھے۔مختلف رسالوں اور کتابوں سے سائنس کے مضامین پڑھتے اور پھر فرماتے اس اصول (یا ایجاد ) کو تو قرآن شریف نے سینکڑوں سال پہلے پیش کر دیا تھا۔حیاتیات، نفسیات، معاشیات وغیرہ پر ان کے متعدد مضامین الفضل میں شائع ہو چکے ہیں۔قرآن کریم کو تمام جدید علوم کا سر چشمہ ثابت کرنے سے کبھی نہ تھکتے تھے۔آواز بہت اچھی پائی تھی دنیا کی چمک دمک یا کسی کے بڑے سے بڑے عہدے سے ذرا بھر بھی مرعوب ہونے کا ان کے خمیر میں مادہ نہ تھا۔ایک بار جماعت کی سندھ میں زمینوں کے مینیجر رہے۔اس سلسلہ میں کئی اعلیٰ افسران کو ملنا پڑتا بے دھڑک ان کے پاس پہنچ جاتے۔ادب کو لوظ رکھتے نیز معاملات سلجھانے اور کام کروانے کے اسلوب سے بہت واقف تھے لیکن حق بات کے خلاف گورنز تک سے بھی دینا انہیں آتا نہ تھا اور انہی اوصاف کی بنا پر کامیاب رہے۔بزرگوں اور دین کے بچے خادموں کا ادب اور احترام ان کی گھٹی میں