تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 301
تاریخ احمدیت۔جلد 26 301 سال 1970ء پڑا ہوا تھا۔قادیان سے ہجرت کرتے وقت اپنے بیٹے مرزا اقبال احمد صاحب کو درویشی کے لئے پیش کر دیا۔مہمان نوازی ان کا طرہ امتیاز تھا۔دعاؤں میں غیر معمولی شغف تھا۔بلا ناغہ تہجد پڑھتے۔خشوع و خضوع سے دعائیں کرتے تھے۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ کی آخری دعا میں اتنا روئے کہ دعا ختم ہونے کے بعد بھی آنکھوں پر رومال رکھے دیر تک بیٹھے رہے۔جلسہ گاہ تقریباً خالی ہو گیا تو خاموشی سے اٹھے اور نظر جھکائے ہوئے باہر آگئے۔آخری دنوں میں آپ حیدر آباد (سندھ) میں مقیم تھے۔قاری محمد یسین خاں صاحب وفات: ۱۸ مارچ ۱۹۷۰ء 35 آپ سلسلہ احمدیہ کے ایک مخلص بزرگ تھے جو ۱۹۳۱ء میں تحریری بیعت کر کے شامل احمدیت ہوئے اور شیو را، ٹانگا اور بالآخر انگلستان میں تادم واپسیں جماعتی خدمات بجالانے میں سرگرم عمل رہے اور اپنی اولاد میں بھی خدمت دین کے گہرے نقوش قائم کر کے نئی نسل کے لئے بھی مشعل راہ بن گئے۔مولانا شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ کے قلم سے آپ جیسے نیک خصلت اور فرشتہ سیرت خادم دین کے مفصل حالات الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۹۰ء صفحه ۴-۵ پر شائع شده ہیں جس کے جستہ جستہ اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں:۔محترم قاری صاحب بال (Bal) ضلع جالندھر کے رہنے والے تھے۔دس مئی ۱۹۱۰ء کو پیدا ہوئے۔مجھ سے پانچ ماہ عمر میں بڑے تھے۔۱۹۲۶ء میں میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد لائل پور اب فیصل آباد ) زرعی کالج میں داخل ہوئے اور گریجویٹ ہوئے اور فیصل آباد میں ہی اسلامیہ سکول میں بطور ٹیچر ایک سال تک ملازمت کی۔اپنے والد بزرگوار کی وفات کے بعد ۱۹۳۰ء میں ایسٹ افریقہ چلے آئے ان دنوں امیگریشن کی کوئی خاص پابندیاں نہ تھیں آسانی سے آنا جانا تھا۔ایک احمدی وٹرنری ڈاکٹر غالبا ڈاکٹر محمد رمضان صاحب تھے جو بعد میں لمبا عرصہ زنجبار ملا زمت کے سلسلہ میں مقیم رہے دورانِ سفر ایسٹ افریقہ آئے ہوئے تھے ان سے محترم قاری صاحب کی ملاقات ہوئی۔جوانی کے عالم میں دورانِ سفر محترم ڈاکٹر صاحب نے ان کی پرہیز گاری، نیکی اور دینی قدروں کو دیکھا تو انہوں نے ان کا احمدیت سے تعارف کرایا۔اور مطالعہ کے لئے کوئی کتاب بھی دی۔جوانی میں ہی تہجد کے بھی رسیا تھے۔ابتدائی تعارف اور دعوت الی اللہ اور مطالعہ کے ساتھ ساتھ استخارہ