تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 299
تاریخ احمدیت۔جلد 26 299 سال 1970ء ہوں۔انہیں جماعت اور خلافت کے نظام سے والہانہ وابستگی تھی۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث سے عاشقانہ انداز میں تعلق تھا۔حضور کی ہر تحریک پر پوری طرح عمل پیرا ہونا اپنی سعادت یقین کرتے 33 تھے۔نہایت دعا گو اور صاحب رؤیا نوجوان تھے۔آپ بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن کئے گئے۔مرحوم کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔کتب فروخت کرنے لٹریچر تقسیم کرنے اور کسی نہ کسی رنگ میں دینی ماحول پیدا کر لینے کا آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا۔آپ کی عادت تھی کہ تبلیغ کی نیت سے اپنے ساتھی یورپین اور دوسرے غیر مسلم اسا تذہ اور اپنے افسروں کے لئے کوئی نہ کوئی تقریب یا دعوت کی صورت پیدا کر لیتے۔پھر کبھی قرآن کریم کا تحفہ دیا جا رہا ہے اور کبھی کوئی اور مناسب لٹریچر پیش کر رہے ہیں۔۱۹۶۶ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر رخصت لے کر پاکستان کا بحری سفر اختیار کیا راستے میں جہاز کے یورپین کمانڈر سے رابطہ پیدا کر کے ایک چائے پارٹی کا انتظام کیا اسے قرآن کریم کا انگریزی نسخہ پیش کیا اور ایک برجستہ تقریر انگریزی زبان میں اسلام کی خوبیوں پر کی۔کمانڈر بہت متاثر ہوا اور اپنی جوابی تقریرہ میں کہا کہ سالہا سال سے میں اپنی بحری سروس میں اکثر اسلامی ممالک کے کناروں تک گھوما ہوں۔یہ پہلا موقع ہے کہ ایک مسلمان نے مجھے اسلام کے مذہب سے روشناس کرانے کی کوشش کی ہے اور ایسا قیمتی تحفہ مجھے دیا ہے۔مرحوم با جماعت نماز ادا کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔مکرم بشیر احمد رفیق امام مسجد لندن ان کے بارہ میں تحریر کرتے ہیں کہ ایک دن خاکسار سارا دن ان کے ساتھ رہا۔شام کو اجازت لیکر ہوٹل آیا۔تھوڑی دیر بعد لئیق احمد صاحب مرحوم بمع اپنے صاحبزادہ کے آگئے اور فرمانے لگے کہ میں نے سوچا با جماعت نماز پڑھ لی جائے۔اس غرض سے یہاں آیا ہوں۔گویا پانچ چھ میل کا سفر شام کی سردی میں محض اس غرض کے لئے طے کیا۔مرحوم کی وفات سے دوماہ قبل رمضان میں نوافل اور دعاؤں پر غیر معمولی توجہ تھی۔غالباً انہی ایام میں اپنی وفات اور نیک انجام سے بھی آگاہ ہو گئے تھے۔کیونکہ بعد میں ان کی نوٹ بک میں سرخ روشنائی سے لکھا ہوا یہ فقرہ درج پایا گیا۔I am happy to go but i feel i am not worthy of as glorious an end۔کہ میں تو جانے پر خوش ہوں مگر سوچتا ہوں کہ اتنے پر شوکت انجام کے میں کہاں لائق