تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 293 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 293

تاریخ احمدیت۔جلد 26 293 سال 1970ء صاحب مجھے اپنے ساتھ لاہور لائے اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کے پاس چھوڑ گئے۔چند دن میں نے ڈاکٹر صاحب موصوف کے مکان پر گزارے اور پھر ریلوے میں ملازمت اختیار کر لی۔فارغ اوقات میں ڈاکٹر صاحب کی ڈسپنسری پر کام بھی کرتا رہا۔یہ عرصہ کوئی آٹھ دس ماہ کا ہی ہوگا اس کے بعد میں نے ۱۹۱۸ء میں یہیں موچی دروازہ کے اندر ہی اپنی الگ ڈسپنسری کھول لی تھی مگر پہلے چند سال لال کھوہ کے پاس دکان تھی۔بعد ازاں ۱۹۲ء سے موجودہ دکان میں کام کر رہا ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل جب ۱۹۱۲ء میں لاہور تشریف لائے تو آپ نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب سے دریافت کیا کہ یہاں کوئی حافظ قرآن بھی ہیں۔انہوں نے عرض کی کہ حضور ! ایک چھوٹا سا حافظ ہے۔فرمایا۔اسے بلاؤ۔جب میں حاضر ہوا تو حضور مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور میری پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر فرمایا۔خدا تمہیں برکت دے گا۔پھر فرمایا۔نماز پڑھاؤ۔چنانچہ تین دن حضور نے میرے پیچھے نمازیں پڑھیں۔ان ایام میں مجھے میں پارے یاد تھے۔بعد ازاں میں نے سارا قرآن یاد کر لیا ( حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل جب واپس قادیان تشریف لے گئے تو آپ کی والدہ کو بلا کر فرمایا کہ مجھے لاہور میں جا کر یہ معلوم کر کے بڑی خوشی ہوئی کہ تمہارے لڑکے نے قرآن یاد کر لیا ہے ) اور غالباً ایک مرتبہ اختلاف سے قبل احمد یہ بلڈنگکس میں اور پھر دہلی دروازہ میں حضرت میاں چراغ دین صاحب رئیس لاہور کی بیٹھک میں اور پھر مسجد کی تعمیل کے بعد اس میں کئی سال تک نماز تراویح پڑھاتا رہا۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی یہاں مبلغ تھے۔ان کی غیر حاضری میں نمازیں بھی میں ہی پڑھاتا تھا۔میں نے حضرت مولوی صاحب سے قرآن کریم کا ترجمہ بھی پڑھا تھا۔حضرت حافظ صاحب کی تین روایات درج ذیل ہیں۔آپ نے فرمایا کہ:۔ا۔جب میں حضرت صاحب کے گھر میں رہتا تھا تو کئی مرتبہ میں نے دیکھا۔حضرت پلنگ پر لیٹے ہوئے ہیں۔موم بتی ، قلم دوات کا غذ بھی ساتھ پڑے ہیں۔حضرت اٹھتے اور کاغذ پر کچھ لکھ کر پھر لیٹ جاتے۔اس وقت تو پتہ نہیں لگتا تھا کہ کیا لکھتے ہیں مگر بعد میں پتہ لگا کہ تازہ الہامات لکھتے تھے۔۲۔مجھے متعدد مرتبہ اندرونِ خانہ سے مہمانوں کے لئے حضرت صاحب کے کھانے میں سے تبرک لانے کا موقعہ ملا۔مجھے یاد ہے لاہور میں ایک دوست منشی تاج الدین صاحب ریلوے اکاؤنٹنٹ تھے۔محلہ کوٹھید اراں لاہور میں ان کی رہائش تھی۔انہوں نے بھی کئی مرتبہ قادیان میں مجھ سے فرمائش کی کہ میں انہیں حضور کے کھانے کا تبرک لا کر دوں۔چنانچہ میں نے انہیں اور ان کے ساتھیوں