تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 292 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 292

تاریخ احمدیت۔جلد 26 292 سال 1970ء خدمت دین کے جذبہ سے سرشار تھے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کے عاشق تھے۔کلام اللہ کا پڑھنا اور اور پڑھانا آپ کی روحانی غذا تھی۔آپ ۱۹۵۴ء میں واہ کینٹ تشریف لائے اور پھر تا دم آخر واہ کینٹ میں ہی مقیم رہے۔آپ جماعت احمد یہ واہ کینٹ کے صدر بھی رہے۔آپ کی کوششوں سے واہ کینٹ میں احمد یہ لائبریری کا قیام عمل میں آیا۔حضرت ڈاکٹر حافظ عبدالجلیل خانصاحب شاہجہانپوری ولادت: قریباً ۱۸۹۱ ء بیعت ۱۹۰۴ء وفات: یکم دسمبر ۱۹۷۰ء 2 26 25 آپ ایک لمبا عرصہ اندرون موچی دروازہ لاہور میں میڈیکل پریکٹس کرتے رہے اور اس پیشہ میں خدمت خلق اور غرباء سے خاص ہمدردی آپ کا طرہ امتیاز رہا۔آپ نے خود نوشت حالات میں لکھا ہیکہ میرے والد صاحب کا نام حافظ قدرت اللہ خان تھا۔پولیس میں سب انسپکٹر کے عہدہ پر متعین تھے مگر چونکہ بہت نیک طبیعت تھے اس لئے رشوت کے قریب بھی نہیں پھٹکتے تھے۔ادھر افسران بالا چاہتے تھے کہ ان کی نقدی وغیرہ سے خدمت کی جائے۔یہ حالات دیکھ کر انہوں نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔شاہجہانپور میں حضرت حافظ مختار احمد صاحب کے ساتھ ان کے بہت تعلقات تھے۔حافظ صاحب انہیں زبانی بھی تبلیغ کرتے تھے اور کتابوں کے ذریعہ بھی۔ہماری والدہ صاحبہ فرمایا کرتی تھیں کہ تمہارے والد جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھتے تھے تو اکثر آبدیدہ ہو کر فرمایا کرتے تھے کہ میں غریب آدمی ہوں۔روپیہ پیسہ سے سلسلہ کی خدمت نہیں کر سکتا۔دل چاہتا ہے کہ اگر کوئی میرے بچوں کو خرید لے تو میں وہ روپیہ حضرت صاحب کی خدمت میں بھیج دوں اور حضور اشاعت دین میں خرچ کرلیں۔۱۹۰۰ ء میں وہ معہ اہل وعیال ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے اور بیعت کر کے سلسلہ کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔حضور نے انہیں لنگر خانہ کے لئے ارد گرد کے دیہات سے ایندھن خرید کر لانے کے لئے مقررفرمایا تھا۔میں حضرت صاحب کے گھر میں ہی رہتا تھا۔جب حضرت صاحب کا وصال ہوا تو میری عمر اس وقت پندرہ سال کی تھی اور آٹھویں کلاس کا طالب علم تھا۔نویں جماعت میں پڑھتا تھا کہ والد صاحب فوت ہو گئے اور میں تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔محترم ڈاکٹر عبداللہ صاحب نو مسلم سے میں نے بہت حد تک کمپوڈری کا کام سیکھ لیا تھا۔کچھ عرصہ کے بعد حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین