تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 291
تاریخ احمدیت۔جلد 26 291 سال 1970ء ہوئے۔اسی رات نماز تہجد کے وقت آپ دماغ کی شریان پھٹ جانے سے بیہوش ہو گئے۔اس موقع پر مکرم رانا کرامت احمد خاں صاحب کمپوڈر فضل عمر ہسپتال ابن حضرت منشی برکت علی خاں صاحب سابق وکیل المال تحریک جدید نے بیماری کے دوران خدمت کی توفیق پائی۔آپ اسی بیماری میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ر آپ کی وفات ۲۶ اکتوبر۱۹۷۰ء کو ہوئی۔وفات کے وقت عمر ۸۳ سال تھی۔اگلے روز حضرت خليفة أسبح الثالث نے مسجد مبارک میں بعد نماز عصر نماز جنازہ پڑھائی اور تمام عزیزوں سے تعزیت کی۔آپ کی تدفین امائنا قبرستان عام میں ہوئی۔بعد میں وصیت کی تکمیل کے بعد تد فین بہشتی مقبرہ قطعہ نمبر ، اصحابہ میں ہوئی۔آپ مجلس انتخاب خلافت کمیٹی کے ممبر تھے۔تاریخ احمدیت جلد نمبر 19 میں صفحہ نمبر ۱۹ پر سیریل نمبر ۶ ۱۹ پر اس طرح درج ہے۔غلام محمد صاحب کا ٹھ گڑھی ہر پہ منٹگمری۔اولاد آپ کی اولاد آپ کے اکلوتے بیٹے مکرم چوہدری غلام اللہ خاں صاحب تھے وہ ۱۹۰۹ء میں کا ٹھ گڑھ میں پیدا ہوئے۔آپ روزگار کے سلسلہ میں لاہور اور لالہ موسی ضلع گجرات میں رہائش پذیر ر ہے بعد میں ربوہ شفٹ ہوئے تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے انہیں اپنا ذاتی ٹریکٹر ڈرائیور رکھ لیا۔انہیں حضرت خلیفہ اسیح الثالث پیار سے بابا جی کہہ کر بلاتے تھے اور ان پر حضور نے بہت شفقتیں فرمائیں۔انہیں ذاتی ٹریکٹر ڈرائیور کے طور پر ایک لمبا عرصہ خدمت کا موقع ملا۔ان دنوں حضور کی زرعی اراضی احمد نگر نز در بودہ اور نصرت آباد چک نمبر ۵۴ جنوبی ضلع سرگودہا میں تھی۔وہاں سے فارغ ہوئے تو حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ناظر اعلیٰ نے انہیں اپنے ہاں ٹریکٹر ڈرائیور رکھ لیا اور حضرت صاحبزادہ صاحب نے بھی بہت شفقتیں فرمائیں۔آپ کی وفات ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۳ء کو ہوئی اور بعد ازاں بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔حضرت حافظ مراد بخش صاحب 24 ولادت : ۱۸۸۴ء بیعت : ۱۹۰۳ء وفات :۳ نومبر ۱۹۷۰ء آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر ۱۹۰۳ء میں بیعت کی اور پھر اس عہد کو ایسا نبھایا جیسا اس کا حق تھا۔نماز روزہ کے پابند، تہجد گزار اور دعا گو بزرگ تھے۔اطاعت اور