تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 278
تاریخ احمدیت۔جلد 26 278 سال 1970ء حضرت محمد صادق صاحب فاروقی آف بھٹے کلاں متصل شہر سیالکوٹ ولادت مئی ۱۸۹۵ ء پیدائشی احمدی وفات : ۷/۸ مارچ ۱۹۷۰ء آپ حضرت منشی نیاز علی فاروقی صاحب کے بیٹے تھے۔بہت نیک مخلص ،سلسلہ کے فدائی اور خاموش طبع بزرگ تھے۔ہر ایک کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی آپ کا خاص وصف تھا۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اکتوبر ۱۹۰۴ء میں سیالکوٹ تشریف لائے تو آپ اس وقت پرائمری میں پڑھتے تھے اس موقع پر دیگر افراد خاندان کے ساتھ سیالکوٹ حاضر ہوئے اور پہلی بار زیارت سے مشرف ہوئے۔ایک عرصہ دراز تک پولیس کے محکمہ میں تفتیش کے کام پر متعین رہے۔آپ اپنے ہمعصروں میں بہترین کارکن تسلیم کئے جاتے تھے۔ان کی محکمانہ قابلیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ امتحان دیے بغیر پہلے ہیڈ کانسٹیبل اور پھر اسسٹنٹ انسپکٹر بنادیئے گئے اور بے شمار تعریفی سرٹیفکیٹ مختلف النوع مقدمات میں انہوں نے حاصل کئے۔آپ کو مذہب سے گہرا شغف اور لگاؤ تھا جہاں جہاں رہے اس علاقہ کے احمدی احباب سے رابطہ قائم رکھا۔کئی مواقع پر مخالف احمدیت افسران سے واسطہ پڑا مگر انہوں نے ہمیشہ احمدیت کے وقار اور عزت کو برقرار رکھا۔جماعت کے سالانہ جلسوں میں ذوق و شوق سے شامل ہونا ان کی خصوصیات میں سے تھا۔قادیان کی محبت کا جذبہ اس حد تک تھا کہ جب تھا نہ امرتسر میں متعین ہوئے تو فرمانے لگے کہ اب تو میں سمجھتا ہوں کہ قادیان میں ہوں۔چنانچہ مکان کرائے پر لے کر اہل و عیال کو قادیان رکھا اور پھر دارالبرکات شرقی میں اپنا مکان بنوا لیا۔سالہا سال تک جماعت احمدیہ قصور کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری مال رہے اور اپنے فرائض کو نہایت شوق ، دلچسپی اور خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۸ مارچ کو بعد از نماز عصر آپ کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں کثیر تعداد میں احباب نے شرکت کی۔بعد میں بہشتی مقبرہ ربوہ قطعہ صحابہ میں تدفین عمل میں آئی۔قبر تیار ہونے پر محترم ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ نے دعا کرائی۔اولاد: حکیم محمد اسلم فاروقی صاحب۔سابق پروفیسر جامعہ احمد یہ وطبیہ کالج ربوہ ، ناصرہ جمال صاحبہ اہلیہ چوہدری جمال احمد صاحب بہاولنگر، محمد ہادی نسیم فاروقی صاحب آفس سپر نٹنڈنٹ آرڈینینس ڈپوواہ