تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 231
تاریخ احمدیت۔جلد 26 231 سال 1970 ء اور ان کی رعایا کا شکر یہ ادا کیا اور یقین دلایا کہ وہ انسانیت کی خدمت کو ہر دوسری چیز پر مقدم رکھنے اور اس طرح ہر ممکن تعاون کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔اس کے بعد پیراماؤنٹ چیف نے ہسپتال کی خوبصورت اور شاندار عمارت کی چابی امیر جماعت احمد یہ گھانا مکرم مولوی بشارت احمد صاحب بشیر کی خدمت میں پیش کی اور انہوں نے تالے میں چابی گھما کر میڈیکل سنٹر کا افتتاح فرمایا۔افتتاح عمل میں آنے کے بعد مہمانوں نے گھوم پھر کر میڈیکل سنٹر کی عمارت اندر سے دیکھی اور علاج معالجہ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔اس تاریخی موقع پر شہر میں بہت خوشی منائی گئی۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ پورے شہر میں خوشی کی لہر دوڑی ہوئی ہے۔عوام نے بہت جوش و خروش اور مسرت کا اظہار کیا۔وہاں کے روایتی طریق کے مطابق ڈھول پیٹ کر خوشی کے شادیانے بجائے گئے۔پیرا ماؤنٹ چیفس نے جو مرصع طلائی زیورات اور تاج پہنے ہوئے تھے اپنے مصاحبوں اور خدام کے جلو میں شریک ہو کر شان و شوکت اور جاہ وحشم کا عجب رنگارنگ انداز میں مظاہرہ کیا۔اس پر شکوہ تقریب میں کو کوفو کی روایتی کونسل کے سیکرٹری نے ہزاروں افراد کے رُوبرو اپنے قبول احمدیت کا اعلان کیا۔ان کے جماعت احمدیہ میں شمولیت اختیار کرنے پر ان کا اسلامی نام ”عبداللہ رکھا گیا۔154 چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی انگلستان کی مذہبی عالمی کانفرس میں تقریر امسال جنوبی انگلستان میں ایک عالمی مذہبی کا نفرنس منعقد ہوئی جس میں تقریر کے لئے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب صدر بین الاقوامی عدالت کو بھی مدعو کیا گیا۔برٹش انفارمیشن سروسز کے رسالہ ” آئینہ برطانیہ کراچی نے اپنے نومبر ۱۹۷۰ء کے شمارہ میں حضرت چوہدری صاحب کا فوٹو درج کر کے مذہبی عالمی کانفرنس کے ممتاز مقرر کے زیر عنوان حسب ذیل مختصر نوٹ شائع کیا:۔مذہبوں کی عالمی کانگریس کی سالانہ کا نفرنس میں جو اس سال (۱۹۷۰ء) جنوبی انگلستان میں منعقد ہوئی تھی پاکستان کے سر ظفر اللہ خاں، صدر بین الاقوامی عدالت بھی ایک ممتاز مقرر تھے انہوں نے کا نفرنس میں اس ضرورت پر زور دیا کہ افراد خدا سے صحیح رابطہ قائم کریں نیز واضح فرمایا کہ مساوات کو اسلامی فلسفہ میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔66