تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 216 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 216

تاریخ احمدیت۔جلد 26 216 سال 1970ء روز (۱۷ اکتوبر ) کوسیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خدمت میں حضرت سیّدہ ام متین مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے دنیا بھر کی احمدی مستورات کی ترجمانی کرتے ہوئے حضور پُر نور کی خدمت میں سپاسنامہ پیش فرمایا جس میں سفرا افریقہ سے کامیاب مراجعت پر مبارکباد پیش کی۔اور پھر رب کریم کے ان غیر معمولی افضا کا تذکرہ کیا جواس کے دوران اور اس کے بعد ظاہر ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا افتتاحی خطاب۔سیدنا حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے سپاسنامہ کے بعد ایک نہایت روح پرور تقریر فرمائی جس کے شروع میں اپنی قلبی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آپ بہنوں کی طرح میرا دل اور سینہ اور روح بھی اپنے رب کی حمد سے معمور ہیں۔ایک مختصر سے وقفہ میں افریقہ کے دورہ کے دوران اللہ تعالیٰ نے جن بے شمار رحمتوں اور فضلوں کے جلوے دکھائے ان کا شمار نہیں اور جس پیار کے ساتھ راہنمائی فرمائی اس کی حد ممکن نہیں۔ہم سب اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے ہیں اور اسی کی حمدوثنا میں اپنی زندگی کے اوقات گزارتے ہیں۔خدا کرے کہ ہم ہمیشہ ہی اس کی محبت اور پیار کے حقدار اور وارث بنے رہیں۔حضور نے ان تمہیدی کلمات کے بعد ارشاد فرمایا کہ قرون اولیٰ کی مسلم مستورات نے اللہ تعالیٰ کے اس پیار کو اس لئے حاصل کیا کہ وہ اپنے رب و دود کی محبت اور اس کے عشق میں فنا تھیں۔دنیا کی طرف انہیں نہ کوئی توجہ تھی اور نہ کوئی رغبت تھی۔کئی دنوں کی بچھڑی ہوئی بیوی اپنے خاوند کو گھر میں گھنے نہیں دیتی تھی اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے۔وہ کہتی تھی جاؤ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لئے تشریف لے جاچکے ہیں۔تمہیں میری محبت سے زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔چنانچہ اپنے اس خاوند کو جس سے ملے ہوئے اسے کئی دن گذر گئے ہوتے تھے اسے جنگ کی آگ میں دھکیل دیتی تھی اور نہیں جانتی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس کے خاوند کو شہادت کی خلعت عطا کرے گا یا زندگی کی مسرتیں۔وہ ایسا کیوں کرتی تھی؟ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت پر کسی اور کی محبت کو ترجیح نہیں دینا چاہتی تھی۔اس کے دل میں اللہ ہی اللہ تھا اور اللہ تعالیٰ تو بڑا قدردان ہے۔وہ ایسی روح اور ایسے دل سے بڑا پیار کرتا تھا۔انہوں نے اپنے رب کی محبت کو اس لئے پایا کہ وہ ہمیں اس دنیا کی مخلوق نہیں نظر آتی تھیں وہ تو آسمانی حوریں تھیں جو اس زندگی کے دن گن گن کر گزار رہی ہوتی تھیں اس انتظار میں کہ وہ زیادہ ظاہری طور پر زیادہ کھلے طور پر اخروی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے پیار کے جلوے دیکھیں۔