تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 217 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 217

تاریخ احمدیت۔جلد 26 217 سال 1970ء 147 اس کے بعد حضور نے قرنِ اوّل کی مسلمان خواتین کی شجاعت اور بسالت کے بعض حیرت انگیز واقعات کا تذکرہ کیا اور اس ضمن میں خاص طور پر حضرت عمر فاروق کے عہد مبارک کے معرکہ دمشق کے دوران ضرار کی بہن خولہ بنت ازور کی بے مثال مردانگی اور جرات کو خراج تحسین ادا کیا چنانچہ بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا کہ دمشق (دمشق کی فتح جو پورے ملک شام کی فتح کا پیش خیمہ تھی ۴ انجری ۶۳۵ء میں ہوئی ) کا محاصرہ تھا۔رومی بادشاہ نے اہل دمشق کو مدد پہنچانے کے لئے ( تعداد صحیح صحیح یاد نہیں ) ۱۵ سے ۳۰ ہزار کی فوج بھجوائی۔یہ کافی بڑی فوج تھی۔حضرت خالد بن ولید اسلامی فوجی کے سپہ سالار تھے۔انہوں نے اس فوج کا راستہ روکنے کے لئے ضرار کی سرکردگی میں ایک مختصر سا مسلمانوں کا دستہ بھیجا انہوں نے بجائے راستہ روکنے کے اور حضرت خالد بن ولید کو اطلاع دینے کے کہ اس طرح دشمن کی ایک بڑی فوج آ رہی ہے خود ان سے لڑنے لگ پڑے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کا کافی نقصان ہوا اور خود ضرار دشمن کی قید میں آگئے۔ان کی گرفتاری پر رومیوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہمارے لئے دور استے کھلے ہیں یا تو ہم انہیں قتل کر دیں اور ان کا سر اپنے بادشاہ کے پاس بھیج دیں۔وہ بڑا خوش ہوگا یا پھر اسے زندہ ہی بادشاہ کے پاس بھیج دیں۔اگر ہم انہیں زندہ بادشاہ کے پاس بھیج دیں گے تو وہ زیادہ خوش ہوگا کہ ضرار جیسے بہادر اور نڈر انسان کو زندہ پکڑ کر میرے پاس بھیجا ہے۔جب حضرت خالد بن ولید کو اس واقعہ کا پتہ لگا تو وہ مزید کمک لے کر وہاں پہنچے۔یہ جگہ دمشق سے کوئی دس بارہ میل کے فاصلے پر تھی۔وہ صف آراء ہو کر لڑائی کی تیاری کر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا ایک گھڑ سوار سر پٹ گھوڑا دوڑاتا ہوا مسلمانوں کی صفوں میں سے نکلا ہے اور ان کے قریب سے اپناگھوڑا تیز دوڑاتے ہوئے نکل گیا ہے۔اس نے زرہ پہن رکھی تھی اس کے سر پر پگڑی تھی اور اس نے ایک بڑی شال اپنے منہ پر اس طرح لپیٹی ہوئی تھی کہ اس کی صرف دو آنکھیں نظر آتی تھیں اس کے سر پر خود نہیں تھی۔اس کے ہاتھ میں ایک لمبا سا نیزہ تھا اور پہلو میں ایک تلوار لٹکی ہوئی تھی اس سوار کے پاس یہی دو ہتھیار تھے۔وہ بجلی کی طرح حضرت خالد بن ولید کے پاس سے گذر گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے رومیوں کی ایک صف میں گھس گیا اور نیزے کے وار کے ساتھ ایک رومی کو مار گرایا پھر وہ سوار وہاں ٹھہرا نہیں اپنا گھوڑا دوڑا تا ہوا دوسری طرف نکل گیا اور وہاں بھی اپنے نیزے سے ایک رومی کو گرا دیا۔ادھر خالد اپنی فوج کی صف آرائی میں مصروف تھے انہوں نے زیادہ توجہ نہیں دی۔لیکن ان کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ کیسا سوار ہے جس نے میرے حکم کا انتظار نہیں کیا اور دشمن پر حملہ آور ہو گیا ہے۔اتنے