تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 215
تاریخ احمدیت۔جلد 26 215 سال 1970ء زمین کے کناروں تک وسیع ہونے اور خالص دلی محبتوں کے نفوس واموال میں برکت عطا ہونے سے متعلق خدائی وعدے پڑھ کر سنائے حضور نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ:۔یقیناً یا درکھو اور کان کھول کر سنو کہ میری روح ہلاک ہونے والی روح نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں۔مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے جس کے 145- آگے پہاڑ بیچ ہیں۔غرضیکہ حضور نے اپنے خدام اور اپنی پیاری جماعت کو امید و یقین کا پیغام دیتے ہوئے خدائی وعدوں پر پختہ یقین اور زندہ ایمان دلوں میں پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔حضور نے اپنے سفر مغربی افریقہ کے ایمان افروز واقعات بیان کر کے اور اس کے نتیجہ میں نازل ہونے والی غیر معمولی برکات پر روشنی ڈال کر ان وعدوں کے پورا ہونے کو بہت ہی جلالی انداز میں واضح فرمایا۔خدائی وعدوں کے پورا ہونے اور ان کے مہتم بالشان عملی ظہور کا یہ تذکرہ جمیل اس قدر ایمان افروز اور روح پرور تھا کہ ہزاروں ہزار سامعین فرط مسرت سے جھوم اٹھے اور وہ خدا تعالیٰ کے ہر نئے فضل اور انعام کا روح پرور ذکر سن کر وقفہ وقفہ سے بار بار پُر جوش نعرے بلند کرتے رہے۔اس ولولہ انگیز و پر اثر خطاب کے بعد حضور نے خدام سے عہد دُہر وایا۔آخر میں حضور نے اجتماعی دعا کرائی۔اس اجتماعی دعا کا منظر بھی ایک عجیب روحانی کیفیت سے معمور تھا۔کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اسلام کی سر بلندی و غلبہ کے لئے اشکبار نہ ہو اور کوئی دل ایسا نہ تھا جو خدا تعالیٰ کی توحید اور عظمت و جلال کے قیام کے لئے مرغ بسمل کی طرح تڑپ نہ رہا ہو۔دعا کے بعد حضور نے خدام کو بلند آواز سے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہتے ہوئے نہایت محبت و شفقت کے ساتھ رخصت فرمایا۔اس طرح یہ خدائی تائید و نصرت پر مشتمل خدام الاحمدیہ کا اٹھائیسواں سالانہ اجتماع اختتام پذیر ہوا۔فالحمد للہ علی ذالک۔اجتماع لجنہ اماءاللہ مرکزیہ 146 انہی تاریخوں میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا کامیاب سالانہ اجتماع ہوا۔امسال لجنات اور ناصرات کی تعداد میں نمایاں اضافہ تھا۔مجموعی تعداد دوران اجتماع قریباً ۴۰۰۰ رہی۔۱۴۷ بیرونی مقامات سے ۱۰۶۵ مستورات تشریف لائیں۔نائیجیریا، غانا، ابوظہبی ، عدن اور قطر کی لجنات کی ممبر خواتین کو بھی شامل اجتماع ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔اس اجتماع کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے دوسرے