تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 214
تاریخ احمدیت۔جلد 26 214 سال 1970ء اس گراف سے عیاں ہے کہ ۱۹۶۶ ء تک اجتماع میں شامل ہونے والی مجالس کی تعداد گرتی رہی تھی حتی کہ ۲۱۰ سے گر کر ۱۹۶۶ء میں یہ تعدادا ارہ گئی تھی۔اس کے بعد تین سال تک آپ کو گو یا ہسپتال میں رکھا گیا اور خدا کے فضل سے یہ تعداد بڑھنی شروع ہوئی اور رفتہ رفتہ ۱۹۶۹ ء تک یہ ۲۴۷ تک جا پہنچی۔یہ بتدریج ترقی واضح طور پر صحت کی علامت تھی اس کے بعد میں نے ایک مخلص بچہ کو جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جسمانی تعلق تو نہ تھا لیکن روحانی تعلق بہت پختہ تھا خدام الاحمدیہ کی صدارت سونپی ( مراد مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب حال وکیل اعلیٰ تحریک جدید )۔اللہ تعالیٰ نے اسے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی، اس کی کوششوں میں برکت ڈالی اور ہماری دعاؤں کو قبول فرمایا۔۱۹۷۰ء میں یہ تعداد یکدم ۲۴۷ سے ۴۰۱ تک جا پہنچی ہے۔اس لحاظ سے آپ کا یہ اجتماع آپ کے حق میں غسل صحت کا درجہ رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس فضل اور احسان کو دیکھ کر میرا دل اپنے رب کی حمد سے معمور ہے اور میری روح سے خوشیوں کے دھارے بہہ رہے ہیں۔خطاب جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا۔یہ خوشی کا مقام ہے کہ خدام الاحمدیہ کی تنظیم کا جسم صحت یاب ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ خلوص نیت کی وجہ سے ہماری کوششوں کو قبول فرمائے گا اور ان کا وہ نتیجہ نکالے گا جو ہم چاہتے ہیں کہ ہماری حقیر کوششوں کا اس کے فضل خاص کے ماتحت نتیجہ نکلے۔حضور نے فرمایا لیکن ہمیں یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ جو نتیجہ ہم چاہتے ہیں کہ نکلے وہ تو حید پر پختگی سے قائم ہونے سے نکل سکتا ہے۔ضروری ہے کہ ہم تو حید پر اس قدر پختگی سے قائم ہوں کہ شرک کی کوئی ملونی اس میں نہ پائی جائے۔سب سے خطر ناک شرک خود اپنے نفس کا شرک ہے۔عاجزی کی راہیں اختیار کر کے اور نیستی کا جامہ پہن کر ہم نفس کے شرک اور اس کی ہلاکت آفرینی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔جب ہم عاجزی کی راہیں اختیار کریں گے تب ہی غلبہ اسلام کے وہ وعدے ہمارے حق میں پورے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہم سے کئے ہیں۔غلبہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و جلال کے قیام سے متعلق خدائی وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے واضح فرمایا کہ غلبہ اسلام کے لئے جس پاک جماعت کی ضرورت تھی اور اس جماعت کے کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لئے جس خدائی تائید و نصرت اور نزولِ برکات کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے ان سب ضرورتوں کو پورا کرنے کا بھی وعدہ فرمایا۔اس ضمن میں حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات وارشادات کی روشنی میں جماعت احمدیہ کو قیامت تک غلبہ عطا ہونے اور اس غلبہ کے