تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 197 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 197

تاریخ احمدیت۔جلد 26 197 سال 1970ء طرف متوجہ کیا کہ ” الخير كله في القرآن“ کہ ہر وہ چیز جو خیر و برکت کا موجب بنتی ہے۔فرد یا خاندان یا قوم یا دنیا کی کوئی زینت ہو وہ ساری کی ساری صحیح معنی میں قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں۔اس خیر و برکت کے حصول کا ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو اللہ تعالیٰ کے الہام میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہوا قرار دیا گیا كلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ محمد صلى الله عليه وسلم “ قرآن کریم میں جو بھی خیر پائی جاتی ہے اس کے حصول کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی کرنی ضروری ہے۔یہ بنیادی باتیں آپ اپنے ذہن کے صندوق میں محفوظ کر لیں اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔اگر ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں آپ کے اوپر نازل ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں آپ عزت کا مقام پائیں گے“۔141 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا احمدی ڈاکٹروں سے ولولہ انگیز خطاب سید نا حضرت خلیفہ امسح الثالث نے ۳۰ اگست ۱۹۷۰ء کوکمیٹی روم فض عمر فاؤ نڈیشن ربوہ میں احمدی ڈاکٹروں سے ایک ولولہ انگیز اور پُر اثر خطاب فرمایا جس میں حضور نے ارضِ بلال میں جماعت احمدیہ کے ذریعہ رونما ہونے والے شاندار انقلاب اور نصرت جہاں آگے بڑھو پروگرام کی دلچسپ تفصیلات پیش فرمائیں اور احمدی ڈاکٹروں کو افریقہ میں خدمت خلق کے لئے میدان عمل میں آنے کی پر زور تحریک فرمائی۔اس اہم خطاب کے بعض ضروری اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں :۔ا۔ہمارا Latest طبی مشن گیمبیا میں کھلا ہے ڈاکٹر سعید صاحب وہاں گئے ہیں ، ان کو وہاں کام شروع کئے ہوئے دو سال ہو گئے ہیں۔شروع میں انہیں کافی دقت کا سامنا کرنا پڑا۔کچھ تعصب بھی تھا کچھ ہم نے انہیں دیہات میں پھینک دیا تھا۔بایں ہمہ دو سال میں ان کی جو Net Saving ہے یعنی اپنا چوتھائی حصہ نکال کر باقی تین چوتھائی ۵ اور ۶ ہزار پونڈ کے درمیان ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اڑھائی اور تین ہزار پونڈ سالانہ آمد ہے جس سے ان کے حصہ میں ۱/۴ کے لحاظ سے قریب ڈیڑھ دو ہزار پونڈ آتا ہے اور اس طرح ان کا ۴۰ پونڈ ماہانہ سے بھی زیادہ بن جاتا ہے۔