تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 198 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 198

تاریخ احمدیت۔جلد 26 198 سال 1970ء لیکن ہمارا جو مطالبہ ہے وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر بڑا مخلص ہونا چاہیے اور بڑا دعا گو ہونا چاہیے کیونکہ وہاں اس وقت ہمارا عیسائیوں سے سخت مقابلہ ہے وہ بہت پیسہ خرچ کرتے ہیں۔انہوں نے بڑے اچھے ہسپتال بنا رکھے ہیں جن میں کوالیفائیڈ ڈاکٹر ز کام کرتے ہیں۔لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ان کے مقابلے میں جہاں بھی ہمارا کلینک کھلا ہے زیادہ مقبول ہو گیا ہے۔ہمارے کلینک کی اس حد تک مقبولیت ہو چکی ہے کہ ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب کا نو میں ہیں یہ علاقہ نائیجیریا کا مسلم نارتھ کہلاتا ہے انہوں نے مجھے بتایا کہ بعض وزراء تک گورنمنٹ ہسپتال میں جانے کی بجائے ان کے پاس آتے ہیں۔حالانکہ ایک وزیر کو ان کے کسی دوست نے کہا کہ گورنمنٹ ہسپتال موجود ہے آپ وہاں نہیں جاتے اور ان کے کلینک میں چلے جاتے ہیں (اُس وقت یہ کلینک تھا اب تو اچھی خوبصورت عمارت پر مشتمل ہسپتال بن چکا ہے ) اس نے کہا مجھے وہاں زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔چنانچہ وہ اپنا اور اپنے رشتہ داروں کا علاج ہمارے ہسپتال میں آ کر کراتا ہے۔شاید ظاہری علمیت کے لحاظ سے عیسائی زیادہ اچھے ہوں گے لیکن وہ دعا کرنے والے نہیں یا کم از کم ہمارے ڈاکٹروں کے مقابلے میں ان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ویسے تو اللہ تعالیٰ سب کی دعائیں قبول کرتا ہے لیکن جب مقابلہ ہو جائے تو احمدی ڈاکٹر کے ہاتھ میں بفضلہ تعالی زیادہ شفاء ہے۔دوسرے ہمیں وہاں ایسا ڈاکٹر چاہیے جو ہمیں حساب کے جھمیلوں میں نہ پھنسائے۔اس وقت تک اِن تین ڈاکٹروں یعنی کا نو میں ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب، لیگوس میں ڈاکٹر عمر الدین صاحب سدھو اور یہاں گیمبیا میں ڈاکٹر سعید صاحب نے اس سلسلہ میں بھی بہت ہی اچھا نمونہ دکھایا ہے۔“ گیمبیا میں تو اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا ہے کہ جہاں ڈاکٹر سعید احمد صاحب کام کر رہے ہیں وہاں بھی ہمیں زمین نہیں مل رہی تھی کیونکہ ایک چیف نے زمین دی اور گورنمنٹ کے ایک آفیسر نے کہا کہ اس چیف کو زمین دینے کا کوئی اختیار ہی نہیں چنانچہ جھگڑا پڑ گیا۔بالآخر انہوں نے زمین تو دیدی مگر ۲۰ پونڈ سالا نہ Rent بطور لیز لگا دیا۔کوشش ہوتی رہی ،اب میرے آنے کے بعد اس کا کرایہ ۲۰ پونڈ کی بجائے ایک