تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 188 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 188

تاریخ احمدیت۔جلد 26 188 سال 1970ء تقریریں اپنے بے ساختہ پن اور فطریت Naturalness کی وجہ سے قوم کو ایک روحانی غذا مہیا کرتی ہیں۔میں جب جمعہ پڑھنے گیا تو بڑا آزردہ خاطر بھی تھا اس لئے کہ معاصر پیغام صلح نے میرے متعلق ایک نہایت دل آزار نوٹ اپنے تازہ پرچے میں شائع کیا تھا۔جس میں مجھے یہ طعنہ بھی دیا تھا کہ میں فالج زدہ ہوں۔لیکن حضرت صاحب کا خطبہ جمعہ سننے کے بعد فالج زدگی میں بھی مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ بات سمجھا دی کہ خدا کی طرف سے جو چیز آتی ہے اس پر شکر گزار ہونا چاہیے۔یہ وہ دولت ہے جو مجھے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی صحبت سے ملتی ہے نہ کہ وہ سیم وزر کی دولت جس کا طعنہ پیغام صلح نے مجھے دیا ہے کہ میں اس کے لالچ میں کبھی کبھی حضرت صاحب کی مدح سرائی میں مضامین لکھتا ہوں۔اس تجربے کا ذکر بھی میں تحدیث بالنعمت کے طور پر کرتا ہوں۔اور میری دلی خواہش اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے جماعت لاہور کے دوسرے بھائیوں کو بھی اس نعمت سے مالا مال ہونے کی توفیق دے۔خدا کا شکر ہے کہ اب ایک ایسی رو چل پڑی ہے کہ اُس جماعت کے سمجھدار اور مخلص دوست آہستہ آہستہ اس جماعت میں شمولیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔حال ہی میں ایک ممتاز انجینئر ملک عبداللہ صاحب نے بیعت خلافت کی سعادت حاصل کی ہے۔درحقیقت یہی وہ راز ہے جو انسانی تنظیموں اور الہبی تنظیم جو خلافت کی شکل میں قائم ہوئی ہے میں فرق پیدا کرتا ہے۔میں نے کہیں پڑھا ہے کہ حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل نے جماعت لاہور کے سامنے ان کو ایک تقریر میں یہ راز سمجھانے کی کوشش بھی کی تھی کہ خلافت کوئی انسانی منصوبہ نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی براہ راست مشیت سے انسانی فلاح اور بہبود کے لئے قائم ہوتی ہے۔حضرت موصوف نے جو الفاظ استعمال کئے تھے وہ میرے حافظے کے مطابق یہ تھے کہ دیکھو! خلافت کیسری کے سوڈا واٹر کی کوئی دکان نہیں ہے کہ جا کر خرید لو۔اُس زمانہ میں انار کلی میں کیسری کے سوڈا واٹر کی دکان بڑی مشہور تھی اور پچھلے پہر اس پر خریداروں کا بڑا ہجوم رہتا تھا۔پس حضرت خلیفہ اول نے ایک نہایت موزوں تخیل سے یہ ذہن نشین کرایا کہ انسانی انجمنوں کی قائم کردہ تنظیمیں انسانوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت نہیں کر سکیں اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے خلافت کی تنظیم اپنی براہِ راست مشیت کے ماتحت قائم کی تاکہ بنی نوع انسان اس نعمت عظمی سے محروم نہ ہو