تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 189 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 189

تاریخ احمدیت۔جلد 26 189 سال 1970ء جائیں۔یہ بڑی محرومی اور بدنصیبی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اپنے ہاتھ کی جلائی ہوئی شمع تو ہمارے اندر موجود ہو اور ہم اس کی طرف آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہیں۔لاہوری جماعت میں مخلص اور سمجھدار لوگ بھی ہیں ان کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت دامنِ خلافت سے وابستہ ہے۔نصرت الہی کی ایک اور تازہ ترین مثال جسے میں احباب لاہور کی توجہ کے لائق سمجھتا ہوں وہ رسالہ الفرقان کا تازہ نمبر ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت و ناموس پر جو بڑے بدنما داغ مخالفین لگاتے تھے ایسے خوش اسلوبی سے صاف کر دیے ہیں جس کے بعد کسی مخالفت سے مخالف کو بھی چون و چرا کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔میں یہ کہنے میں اپنے آپ کو بالکل حق بجانب سمجھتا ہوں کہ جماعت لاہور کی طرف سے لٹریچر کا جو انبار گزشتہ ساٹھ ستر سال میں شائع ہوا ہے اس تمام لٹریچر میں اس مدافعت کا عشر عشیر بھی نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت و ناموس کی الفرقان کے اس نمبر میں کی گئی ہے۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ الفرقان کے ایڈیٹ کو جوسید نا حضرت خلیفہ امسح الثالث کا ایک معمولی سپاہی ہے یہ توفیق کیسے مل گئی کہ صف دشمن کو محبت سے پامال کر کے رکھ دیا۔یہ توفیق بلا شبہ خلافت کے دامین سے وابستگی کی برکات ہی سے ہے۔محترم مولانا ابوالعطاء صاحب تمام جماعت کے شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے ہمارے روحانی باپ کی عزت کا نہایت خوبصورتی کے ساتھ تحفظ کیا ہے۔میرا دل چاہتا ہے کہ اس نمبر کو احباب لاہور توجہ کے ساتھ مطالعہ کریں اور وہ بھی اس عظیم الشان کارنامے پر فخر اور خوشی محسوس کریں۔تنسیخ جہاد اور گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی یہ دو نہایت شدید الزامات تھے جنہیں ہمارے مخالف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف پیش کر کے عوام کے قلوب کو زہر آلود کرتے تھے۔مولانا موصوف کے محققانہ مضمون نے جو ان ہر دو الزامات کی تردید میں شائع کیا گیا ہے ان الزامات کو بالکل بے اثر کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس دعوی کا وارث بنایا ہے۔جہاں آپ نے فرمایا ے صف دشمن کو کیا ہم نے بجت پامال اللہ تعالیٰ ان کے قلم میں اور زور بخشے اور انہیں مامور زمانہ کے خلاف ہرزہ سرائی کو مٹانے کے لئے بیش از پیش کوشش کرتے رہنے کی توفیق ملے۔