تاریخ احمدیت (جلد 26)

by Other Authors

Page 187 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 26) — Page 187

تاریخ احمدیت۔جلد 26 187 سال 1970ء ساتھ الوداع کہا۔حضور مع قافلہ سوا نو بجے راولپنڈی پہنچے اور میجر سید مقبول احمد صاحب کی کوٹھی پر تشریف فرما ہوئے۔سوا گیارہ بجے راولپنڈی کے احباب نے امیر صاحب راولپنڈی کی سرکردگی میں شہر سے باہر حضور کو الوداع کہنے کی سعادت حاصل کی۔ڈیڑھ بجے حضور کلر کہار کے ایک ریسٹ ہاؤس میں چند گھنٹے کے لئے ٹھہرے۔اس کا انتظام راجہ محمد نواز صاحب نے کر رکھا تھا یہاں سے ساڑھے تین بجے روانگی ہوئی۔سرگودھا سے دو میل باہر جماعت احمد یہ سرگودھا کے مخلص احباب نے حضور انور کا پر تپاک استقبال کیا اور کینال ریسٹ ہاؤس میں عصرانہ پیش کیا جس کے بعد ساڑھے چھ بجے روانہ ہو کر ساڑھے سات بجے شام بخیر و عافیت مرکز احمدیت میں رونق افروز ہوئے جہاں مقامی احباب مسجد مبارک میں نماز مغرب ادا کرنے کے بعد کثیر تعداد میں دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کے احاطہ میں موجود تھے جو نہی حضور کی کا راحاطہ میں آکر رکی تو سب احباب نے بلند آواز سے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا۔سب سے پہلے امیر مقامی صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے شرف مصافحہ حاصل کر کے پیارے امام کے پُر خلوص استقبال کی سعادت حاصل کی۔بعد ازاں حضور نے جملہ احباب سے مصافحہ فرمایا اور اس کے بعد قصر خلافت میں تشریف لے گئے۔133 مولانا محمد یعقوب خاں صاحب کے خطبہ جمعہ سے متعلق تاثرات حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ایبٹ آباد میں ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء کو جو ایمان افروز خطبہ ارشاد فرمایا اس کا ذکر آچکا ہے۔مولانا محمد یعقوب خاں صاحب سابق ایڈیٹر لائٹ اس خطبہ سے از حد متاثر ہوئے اور آپ نے درج ذیل نوٹ سپر د قلم فرمایا:۔میں نے ایسا ایمان افروز اور دل کو سکون اور ٹھنڈک بخشنے والا خطبہ جمعہ ساری عمر میں آج (۱۴ اگست ۱۹۷۰ء) کو پہلی دفعہ سنا۔یہ وہ الفاظ ہیں جن کا میں نے حضور کا خطبہ جمعہ سننے کے بعد گھر واپسی پر اپنی اہلیہ صاحبہ سے ذکر کیا۔جمعہ کے خطبے قوم کی روحانی تربیت اور پرورش کے لئے تھے لیکن بدقسمتی سے ان خطبوں میں بھی اب وہ چیز آگئی ہے جس کو فنکاری یا اداکاری کہتے ہیں اور خطیب قوم کو روحانی غذا دینے کی بجائے زیادہ تر اپنی علمیت اور فن خطابت کی نمائش کرتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی خطابت اور تقاریر کی روحانی تاثیر کی اصلی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر ایک بناوٹ اور تصنع سے پاک ہوتی ہیں۔فطرت کی گہرائیوں سے جیسے ایک چشمہ صافی ابل کر نکلتا ہے اسی طرح حضور کی گفتگو اور